بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
زکاۃ کی رقم مدرسہ کی فیس میں دینا
سوال
اگرایک مدرسہ میں طلباء پر فیس مقرر ہو،اور اس میں چند طلباء ایسے ہوں جو اس ماہانہ فیس کو ادا نہیں کرسکتے تو کیا ان کی ماہانہ فیس کو پورا کرنے کے لیے مہتمم یا ان طلباء کے والدین طلباء کی طرف سے وکیل بن کر لوگوں سے زکاۃ کی رقم وصول کرسکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی میں مستحقین کو مالک بنانا ضروری ہے چنانچہ جہاں کہیں تملیک کی شرط مفقود ہوگی وہاں زکوۃ کی ادائیگی درست نہ ہوگی ۔ البتہ اگر مستحق زکوۃ کو اس کا مالک بنایا جائے اور وہ برضا ورغبت پوری رقم یا اس رقم کا کچھ حصہ فیس میں دینا چاہےتو شرعاً اس کی گنجائش پائی جاتی ہے۔
صورت مسئولہ میں جن بچوں کے والدین ماہانہ فیس ادا نہیں کرپاتےاور وہ زکاۃ کے مستحق ہوں تو انہیں زکاۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم دینا جائز ہوگا جسے وصول کرنے کے بعد فیس ادا کردیں یا جیسے چاہیں اس کو استعمال کریں ۔تاہم براہِ راست مدرسہ کے طلباء کی طرف سے یہ زکاۃ کی رقم فیس کی مد میں دینا درست نہیں، کیوں کہ اس میں مستحق کو تملیک (مالک بنانا) نہیں پایا جاتا تاہم یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ مستحق شخص زکاۃ وصول کرنے اور اس سے فیس ادا کرنے کے لیے کسی کو اپنا وکیل نامزد کردےاور وکیل زکات وصول کرکے مستحق شخص کی طرف سے فیس ادا کردے۔
ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه۔(الفتاوى الهندية ، كتاب الزكوة ، الباب السابع في المصارف ، ج: 1 ص: 250)
وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء۔ وقال ابن عابدين: ويكون له ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب۔(الدرالمختار مع ردالمحتار، كتاب الزكوة ، باب المصارف ، ج: 3 ص: 293)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں