بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

قرآن خوانی کے بعد بھائی بہنوں کااکھٹا کھانا کھانا


سوال

والدین  کی  وفات پر اولاد کا قرآن خوانی کرنا اور بعد میں بھائی بہنوں کااکھٹا کھانا شرعا درست ہے یا نہیں؟

جواب

             مرحومین کو ایصالِ ثواب کرنا شریعت میں پسندیدہ  اور مستحسن ہے ،البتہ شریعت نے ایصال ثواب کے لیے نہ کسی خاص عمل کی تعیین کی ہے اور نہ کسی وقت کی تعیین کی ہے لہذا ایصال ثواب کے لئے کسی خاص دن کی تعیین کے بغیر مرحومین کے لیے قرآن کریم کی تلاوت، ذکرو اذکار اور صدقہ  و خیرات کر کے ایصال ثواب کر سکتے ہیں۔

            صورت مسئولہ کےمطابق والدین کے لیے ایصال ثواب کے طور پر قرآن خوانی کرسکتے ہیں ،نیز قرآن خوانی کے بعد بھائی بہنوں کا اکھٹا کھانا کھانے میں شرعا ًکوئی حرج نہیں،بشرطیکہ اس کو کسی دن کے ساتھ خاص کر کے باقاعدہ تقریب کی شکل نہ دی جائے۔

 

صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية ۔۔۔الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره۔(ردالمحتار على الدرالمختار، باب الجنازة،مطلب في القراءة للميت واهداء ثوابها له ،ج:3 ،ص:151 ،152)

ولأن ذكر الله تعالى إذا قصد به التخصيص بوقت دون وقت أو بشيء دون شيء لم يكن مشروعا حيث لم يرد الشرع به لأنه خلاف المشروع ۔(البحر الرائق،كتاب الصلاة، باب صلاة العيدين، ج:2،ص:279)


فتویٰ نمبر : 5158/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں