بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سنت نماز کی دوسری رکعت میں قعدہ نہ کرنے کا حکم


سوال

 سنت نماز کی دوسری رکعت میں قعدهٔ اولیٰ میں نہ بیٹھنے کی صورت میں کیا حکم ہے؟ عمداً اور خطاًدونوں صورتوں کاحکم بیان فرمادیں، اور دونوں صورتوں یعنی عمداًاور خطاً کی صورتوں میں سجدۂ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟ مذکورہ عبارت کی تشریح کردیجئے: وَلَوْ صَلَّى الْأَرْبَعَ قَبْلَ الظُّهْرِ وَلَمْ يَقْعُدْ عَلَى رَأْسِ الرَّكْعَتَيْنِ جَازَ اسْتِحْسَانًا. كَذَا فِي الْمُحِيطِ. الفتاوی الھندیه 1/112

جواب

اگر کوئی شخص  فرض یا نفل نماز میں بھول کر کسی واجب کو چھوڑ دے  تو اس پر سجدہ سہو واجب ہوتا ہے، لیکن  اگر قصداً چھوڑ دیا ہو  تو  اس پر نماز کا اعادہ لازم ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر سنت نماز کی دوسری رکعت میں قعدۂ اولی کو بھول کر چھوڑ دیا ہو تو اس پر سجدہ سہو لازم آتا ہے ، البتہ قصداً چھوڑنے کی صورت میں سنت کا اعادہ کرنا ضروری ہے۔

اور سوال  ِمذکور میں عبارت (وَلَوْ صَلَّى الْأَرْبَعَ قَبْلَ الظُّهْرِ وَلَمْ يَقْعُدْ عَلَى رَأْسِ الرَّكْعَتَيْنِ جَازَ اسْتِحْسَانًا) کا مطلب یہ ہے کہ جتنے بھی سنن اور نوافل ہیں  وہ اصل میں دو دو  رکعت ہیں ان  میں سے ہر دو رکعت پر بیٹھنا ضروری ہے  اگر کوئی اس کو  بھول کر چھوڑ دے اور تیسری رکعت  کا سجدہ کر لے  تو قیاساً  اس کی نماز فاسد ہوجاتی ہے، کیونکہ   قعدہ اخیرہ ترک ہوگیا جو کہ فرض ہے ، لیکن استحساناً اس کی نماز سجدہ  سہو کے ساتھ  جائز ہے  کیونکہ  جب وہ   تیسری  رکعت کےلیے کھڑا ہوا تو اس کی نفل نماز  تعداد رکعات میں فرض  نمازکی طرح  بن گئی، لہذا سب ایک نماز شمار ہو کر دو رکعتوں کے بعد والا قعدہ فرض کے قعدہ اولی کی طرح  بن گئی ۔

 

وحكم السهو في الفرض و النفل سواء..... الأصل في هذا أن المتروك ثلاثة أنواع فرض و نفل و واجب .... و في الثالث إن ترك ساهيا يجبر بسجدتي السهو وإن ترك عامدا لا كذا في التتارخانية، و ظاهر كلام الجم الغفير أنه لايجب السجود في العمد و إنما تجب الإعادة جبراً لنقصانه. (الفتاوى الهنديه، كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ج:1، ص: 139).

وكان القياس في المتنفل بالأربع إذا ترك القعدة الأولى أن تفسد صلاته، وهو قول محمد؛ لأن كل شفع لما كان صلاة على حدة كانت القعدة عقيبه فرضا كالقعدة الأخيرة في ذوات الأربع من الفرائض، إلا أن في الاستحسان لا تفسد وهو قول أبي حنيفة، وأبي يوسف؛ لأنه لما قام إلى الثالثة قبل القعدة فقد جعلها صلاة واحدة شبيهة بالفرض، واعتبار ‌النفل ‌بالفرض مشروع في الجملة؛ لأنه تبع للفرض فصارت القعدة الأولى فاصلة بين الشفعين والخاتمة هي الفريضة.(بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل في صلاة التطوع، ج: 2، ص:284).


فتویٰ نمبر : 9943/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں