بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سلام کے آداب


سوال

سلام کرنا سنت ہے۔لیکن کن کن جگہوں میں سلام کرنا جائز نہیں۔اور کن کن جگہوں میں سلام کا جواب واجب نہیں مفصل جواب دیں؟

جواب

                  سلام کرنا سنت ہے اور جواب دینا واجب ہے، اور سلام میں پہل کرنے میں زیادہ ثواب ہے، البتہ بعض مقامات ایسے ہیں کہ وہاں سلام کرنے سے منع کیا گیا ہے، اس کا خیال رکھنا چاہیے،فقہاء اور شارحین حدیث نے اس پر تفصیل سے گفتگو کی ہے، علامہ حصکفی ؒ نے اس سلسلہ میں صدر الدین غزی رحمہ اللہ کے سات اشعار نقل کیے ہیں اور اس پر اپنے ایک شعر کا اضافہ کیا ہے، ان اشعار میں بڑی حد تک ان مواقع کو جمع کر لیا گیا ہے جہاں سلام نہیں کرنا چاہیے، ان اشعار میں جن مقامات  کا ذکر ہے، وہ یہ ہیں:

                 نماز، تلاوتِ قرآن مجید اور ذکر میں مصروف شخص، جو حدیث پڑھا رہا ہو، کوئی بھی خطبہ دے رہا ہو، مسائلِ فقہ کا تکرار و مذاکرہ کررہاہو، جو مقدمہ کے فیصلہ کے لیے بیٹھا ہو، اذان دے رہا ہو، اقامت کہہ رہا ہو، درس دے رہا ہو، اجنبی جوان عورت کو بھی سلام نہ کرنا چاہیے کہ اس میں فتنہ کا اندیشہ ہے، شطرنج کھیلنے والے اور اس مزاج و اخلاق کے لوگ جیسے جو لوگ جوا کھیلنے میں مشغول ہوں، جو اپنی بیوی کے ساتھ بے تکلف کیفیات میں ہو،  جس کا ستر کھلا ہوا ہو، جو پیشاب پائخانہ کی  حالت میں ہو، اس شحص کو جو کھانے میں مشغول ہو، ہاں اگر کوئی شخص بھوکا ہو اور توقع ہو کہ سلام کی وجہ سے وہ شریک دسترخوان کر لے گا تو اس کو سلام کر سکتا ہے، گانے بجانے اور کبوتر بازی وغیرہ میں مشغول شخص کو بھی سلام نہیں کرنا چاہیے، خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ کسی اہم کام میں مشغول ہوں  کہ سلام کرنے سے ان کے کام میں خلل واقع ہو، یا جو لوگ فسق و فجور میں مصروف ہوں، یا جن کو سلام کرنا تقاضۂ حیا کے خلاف ہو یا جنہیں سلام کرنے میں فتنہ کا اندیشہ ہو، ایسے لوگوں کو اور غیرمسلموں کو پہل کر کے سلام نہیں کرنا چاہیے۔

 

"وقد نظم الجلال الأسيوطي المواضع التي لا يجب فيها رد السلام ونقلها عنه الشارح في هامش الخزائن فقال:

رد السلام واجب إلا على ... من في الصلاة أو بأكل شغلا

أو شرب أو قراءة أو أدعيه ... أو ذكر أو في خطبة أو تلبيه

أو في قضاء حاجة الإنسان ... أو في إقامة أو الآذان

أو سلم الطفل أو السكران ... أو شابة يخشى بها افتتان

أو فاسق أو ناعس أو نائم ... أو حالة الجماع أو تحاكم

أو كان في الحمام أو مجنونا ... فواحد من بعدها عشرونا.

یکره السلام علی العاجز عن الجواب حقیقةً کالمشغول بالأکل أو الاستفراغ، أو شرعاً کالمشغول بالصلاة وقراءة القرآن، ولو سلم لایستحق الجواب۔ ( ردالمحتار،کتاب الصلوة، باب ما یفسد الصلوةومايكره فيها،ج:1،ص:618،617)

"(قوله: كآكل) ظاهره أن ذلك مخصوص بحال وضع اللقمة في الفم والمضغ، وأما قبل وبعد فلايكره؛ لعدم العجز، وبه صرح الشافعي، وفي وجيز الكردري: مر على قوم يأكلون إن كان محتاجاً وعرف أنهم يدعونه سلم وإلا فلا اهـ. وهذا يقضي بكراهة السلام على الآكل مطلقاً إلا فيما ذكره.( الدر المختار وحاشية ابن عابدين،ج:6،ص:415)

"السلام تحية الزائرين، والذين جلسوا في المسجد للقراءة والتسبيح أو لانتظار الصلاة ما جلسوا فيه لدخول الزائرين عليهم، فليس هذا أوان السلام فلا يسلم عليهم، ولهذا قالوا: لو سلم عليهم الداخل وسعهم أن لا يجيبوه، كذا في القنية۔يكره السلام عند قراءة القرآن جهراً، وكذا عند مذاكرة العلم، وعند الأذان والإقامة، والصحيح أنه لا يرد في هذه المواضع أيضاً، كذا في الغياثية۔( الفتاوى الهندية،ج:5،ص:325)


فتویٰ نمبر : 5190/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں