بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

غیر اختیاری طور پر کلمہ کفر کہنے سے نکاح پر اثر


سوال

السلامُ علیکُم ورحمةالله برکاتہ مفتی صاحب. چھوٹا بچہ رو رہا تھا, شوہر بھی توجہ دھیان نہیں دے رہا تھا تو بیوی غصہ frustration, چڑ چڑ پن کی وجہ سے بیوی کے منہ سے یہ الفاظ جاری ہوگئے " اللّہ کو بھی مجھ پر رحم نہیں آتا" یہ سنتے ہی شوہراسکو تنبیہ کرتا اور کہتا ہے "توبہ استغفار کرو , کلمہ پڑھو" تو وہ پھر توبہ استغفار کرلیتی ہے کلمہ بھی پڑھ لیتی ہے اور اسکو اپنی غلطی کا احساس بھی ہوتا ہے اور شوہر اس سے پھر پوچھتا ہے کہ یہ الفاظ اس نے اپنے ارادے نیت سے کہے یا کیسے؟ تو وہ کہتی ہے کہ اسکا ارادہ نیت کیا تھا ایسا کہنے میں کچھ بھی اسکو پتا نہیں, اور نہ اسکو پتا تھا کہ ایسا کہنا کفر ہے یہ کفریہ کلمہ ہے, بسں غصہ, چڑ چڑ, frustration کی وجہ سے وہ الفاظ جاری ہو گئے تو کیا ایسی صورت میں بیوی پر کفر لاحق ہوا, نکاح ٹوٹ گیا ؟؟ جبکہ شوہر اسکو اس سے پہلے بھی بتاتے رہا تھا کہ کفریہ الفاظ,بول کے بارے میں کہ بول چال میں ہم کو احتیاط کرنا چاہیے لیکن پھر بھی بیوی کے منہ سے ایک دن اس طرح کے الفاظ جاری ہوۓ اور اب وہ کہتی ہے کہ یہ جملہ خاص (" اللّہ کو بھی مجھ پر رحم نہیں آتا") کے بارے میں نہیں پتا تھا کہ یہ بھی کفریہ ہے تو کیا ایسی صورت میں کفر لاحق ہوگا, نکاح پر فرق پڑا؟

جواب

             غلطی سے کو ئی کفریہ کلمہ زبان سےنکل جائے مثلا کہنا  کچھ اور چاہ رہا تھا اور زبان سے کفریہ جملہ نکل جائےتو اس کی وجہ سے آدمی کافر نہیں ہوتا،البتہ کفریہ جملہ کہنے سے کفر کا علم نہ ہواور کلمہ کفر  اپنے ارادے سے کہہ دے تویہ جہالت اس کے لیے عذر نہیں ہے اس صورت میں تجدید ایمان اور تجدید نکاح دونوں ضروری ہے۔

            صورت مسؤلہ میں اگر واقعی بیوی کے منہ سے یہ جملہ ''اللہ کوبھی مجھ پر  رحم نہیں آتا''بغیر ارادے کہ  نکلا ہو تو یہ الفاظ در حقیقت اللہ تعالی کی رحمت سے انکار نہیں بلکہ نا منا سب الفاظ کے ساتھ  اپنی پریشانی کا اظہار ہے  اگر چہ اس سے کفر لازم نہیں آتا،تاہم توبہ استغفار کرنا ضروری ہے۔

 

قال في البحر والحاصل: أن من تكلم بكلمة للكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به في الخانية ومن تكلم بها مخطئا أو مكرها لا يكفر عند الكل، ومن تكلم بها عامدا عالما كفر عند الكل ومن تكلم بها اختيارا جاهلا بأنها كفر ففيه اختلاف۔(ردالمحتار،ج:4،ص:224)

أن ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح، وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح۔(ردالمحتار،باب المرتد،ج:4،ص:230)

ولو قال إن قضى الله تعالى يوم القيامة بالحق والعدل أخذتك بحقي فهذا كفر كذا في المحيط.(الفتاوي الهندية،مطلب في موجبات الكفر،ج:2،ص:259)


فتویٰ نمبر : 5162/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں