بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سودامکمل ہونےکےبعدمنسوخ کرنا


سوال

میں نے مکان کا سودا کیااور خریدار نے کل رقم کا دس فیصد ٹوکن اداء کردیااور ایک ماہ کی تاریخ وقت طے کیا کہ ایک ماہ میں رقم کی ادائیگی مکمل ہوجائے گی مگر خریدار نے رقم اداء نہیں کی تو کیامجھے اختیار ہے کہ مقررہ وقت گزرجانے کے بعد میں یہ سودا منسوخ کردوں؟

جواب

            جب فروخت کنندہ (بیچنے والے)  اور  خریدار کے درمیان سودا مکمل ہوجائےاور اس میں کسی قسم کی کوئی شرط نہیں لگائی گئی ہو تو وہ چیزفروخت کنندہ کی ملکیت سے نکل کر خریدار کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے  اور فروخت کنندہ، اس کے بدلے جو رقم طے ہوئی ہو اس کا مستحق بن جاتاہے ،پھراگر خریدار کسی وجہ سے وقت پر  رقم ادا نہ کرسکے تو اس بنا  پر  بیچنے والا خریدار کی مرضی کے بغیر سودا ختم   نہیں کرسکتا ، بیچنے والا صرف اسی رقم کا حق دار ہے جس رقم پر سودا ہوا تھا۔ تاہم خریدار پر لازم ہے کہ وہ پیسوں کی ادائیگی میں تاخیر نہ کرے اور جو وقت طے ہوا ہے، اسی وقت پر پیسے ادا کرے ۔

 

قال اللہ تعالی:یا اَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ"(سورۃ المائدۃ:1)

"وإذا حصل الإیجاب والقبول لزم البیع، ولا خیار لواحد منهما إلا من عیب أو عدم رؤیة، کذا في الهدایة."(الفتاوی الھندیة،الفصل الأول فيمايرجع إلى انعقادالبيع ،ج:3،ص:8)

"وشرط صحة الإقالة رضا المتقائلين."(الفتاوی الھندیة،الباب الثالث عشرفي الإقالة،ج:3،ص:157)


فتویٰ نمبر : 3179/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں