بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

بینک میں سود پررقم جمع کرانا


سوال

ایک پولیس والا شہید ہو گیا اور حکومت وقت نے 8 لاکھ روپیہ اس کے بچے کے نام اکاونٹ کھول کر اس میں سود پر رکھ دیئے۔ اب 10 سال بعد وہ 16 لاکھ ہوگئے ہیں اور بچہ بالغ ہے۔ تو اس کے لیے اس رقم کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر حکومت وقت نے یہ 8لاکھ روپیہ بچے  کو دینے کی بجائےاس کے نام پر اکاونٹ کھول کر اس میں رکھ دئیے ہو ں توجب تک اس کو اکاؤنٹ سے رقم نکالنے کا اختیار حاصل نہیں تھا اس وقت تک اس پر جواضافی رقم جمع ہوئی اس کونکالنے اوراستعمال کرنے کی گنجائش ہےجب کہ رقم نکالنے کااختیار ملنے کے بعد اپنی مرضی سے اسی سودی اکاؤنٹ میں رقم چھوڑنےکے بعد  اس پر جو اضافہ آیا ہے اس کو اپنے استعمال میں لانا جائز نہیں ،لہذا وہ بلا نیت ثواب صدقہ کرے۔

 

لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جر نفعا؛ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب۔(بدائع الصنائع،كتاب القرض،ج:7،ص:395)

(قوله:كل قرض جر نفعا حرام) أى إذاكان مشروطا،كما علم ممانقله عن البحر۔(ردالمحتار،كتاب البيوع،ج:5،ص:166)

(خال عن عوض)۔۔۔۔۔(بمعيار شرعي) وهو الكيل والوزن فليس الذرع والعد بربا(مشروط) ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين) أي بائع أو مشتر۔۔۔۔۔۔(في المعاوضة)۔(ردالمحتار،باب الربا،ج:5،ص:169)


فتویٰ نمبر : 3226/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں