بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

فیروزہ پتھر سے متعلق ایک شبہ


سوال

آپ سے فیروزہ پتھر کے بارےمیں  پوچھا گیا ہے جس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ "اس بات کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا کہ فیروزہ ابولولو کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے  حرام ہے۔ فقیہ العصر شہید اسلام حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی تصنیف  (آپ کے مسائل اور ان کا حل) ہی دیکھ لیتے تو شاید آپ کا یہ جواب نہ ہوتا۔ آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد دوم صفحہ 553 دیکھ لیجیے۔ ہم آپ کے علم میں لانا چاہتے ہیں کہ شیعہ جب کسی کو تحفہ میں کچھ دیتے ہیں تو یہ فیروزہ پتھر ساتھ دیتے ہیں،شیعہ کے عقائد تقیہ کی وجہ سےعوام کو اور خاص طور پر ان علماء کو بہت کم معلوم ہے  جو شیعیت کے علاقوں سے دور ہیں، وہ علمائے کرام جنہوں نے اپنی زندگیاں شیعیت کے تعاقب میں صرف کی ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ شیعہ عقائد میں یہ پتھر ایک متبرک پتھر ہے اور چونکہ شیعہ قانونی تحفظ کی وجہ سے اقلیت میں ہونے کے باجود اکثریت پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور اپنے دین کی ترویج کا کام شد و مد سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس کام کے لیے وہ انہی چیزوں پر عملیات وغیرہ کر کے بھی اہلسنت کو تحفے میں دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ شیعیت کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ اب آپ سے رہنمائی کی درخواست ہے کہ دونوں فتاویٰ میں سے کس کو درست مانا جائے۔  آیا اکابرین کے فتاویٰ کو رد کیا جائے یا آپ سے مزید تحقیق و درست رہنمائی کی درخواست کی جائے۔

جواب

               اہل تشیع کی معتبر کتاب ”فروع الکافی“  میں ایک روایت نقل کی گئی ہے جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ ”فیروزہ  پتھر کی انگوٹھی حضرت علی رضی اللہ عنہ پہنا کرتے تھے جو ان کو حضور ﷺ نے ہبہ  کی تھی اور آپ ﷺ کو حضرت جبرائیل  نے دی تھی“۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ  یہ پتھر اہل تشیع کے ہاں  ابو لؤلؤ فیروز کی وجہ سے  متبر ک نہیں  بلکہ اس روایت میں درج وجہ کی بنا  پر ان کا گمان اس پتھر کے متعلق متبرک ہونے کا ہے ۔

لغات اور دائرۃ المعارف کی کتابوں میں فيروزہ  سے متعلق جتنی معلومات لکھی گئی ہیں سب کا خلاصہ یہی ہے کہ یہ ایک پتھر ہے یا ایک رنگ ہے ، کہیں پر بھی اس کی وجہ تسمیہ سے متعلق ابو لؤلؤ فیروز کی نسبت کا تذکرہ کتابوں میں نہیں مل سکا۔

حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ کی تحریر میں اس بات کا کہیں ذکر نہیں ہے کہ اس پتھر کی اصل وجہ تسمیہ ”فیروز لؤلؤ “ کی وجہ سے ہے، اس تحریر میں صرف اس بات کا ذکر ہے کہ ”سبائیوں نے فیروز کے نام کو عام کرنے کے لیے فیروزہ پتھر کا سہارا لیا اور اس کی وجہ سے اس کو متبرک  پتھر ہونے کی حیثیت سے پیش کیا“  اس  بات کا کوئی حوالہ ان کی کتاب میں بھی موجود نہیں اور نہ اس بات سے  اس پتھر کی حرمت کا حکم معلوم  ہوتا ہے ۔ چنانچہ  آپؒ سے ایسی انگھوٹی پہننے سے متعلق  سوال کیا گیا  ہے  جس میں مختلف پتھر جڑے ہوئے ہوں اور مثال میں فیروزہ پتھر کو بھی ذکر کیا گیا ہے تو آپؒ نے اس کے جواب میں مطلقاً جواز ذکر کیا ہے (آپ کے مسائل اور ان کا حل، ج: 2،  ص:553)۔

 

بَابُ الفَيرُوزَجِ: 1: عدۃ من أصحابنا عن سهل بن زِيَاد رَفَعَهُ إِلَى أَبِي عَبدِ اللَّهِ  قَالَ مَن تختم بِالفيرُوزج لم يفتقر كفه...2: عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بنِ بُندَارَ عَن إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَحمرِ عَنِ الْحَسَنِ بنِ سهل عَنِ الحَسَنِ بنِ عَلِيٍّ بنِ مِهرَانَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبي الحَسَنِ مُوسَى  وَ فِي إصبعه خَاتَمَ فَصُّهُ فَيرُوزَجٌ نَقشُهُ اللَّهُ المَلِكُ فَأَدَمتُ النَّظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا لَكَ تُدِيمُ النظَرَ إِلَيْهِ فَقُلْتُ بَلَغَنِي أَنَّهُ كَانَ لِعَلِي أَمِيرِ المُؤْمِنِينَ  خَاتَمَ فَصُّهُ فَيُرُوزَجٌ نَقشُهُ اللَّهُ المكُ فَقَالَ أَتَعرِفُهُ قُلتُ لا فَقَالَ هَذَا هُوَ تَدرِي مَا سَبَبُهُ قُلْتُ لَا قَالَ هَذَا حَجَرٌ أَهْدَاهُ جبرئيل  إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَوَهَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَتَدرِي ما اسمه قُلتُ فَيرُوزَجٌ قَالَ هَذَا بِالفَارِسِيَّةِ فَمَا اسْمُهُ بِالعَرَبِيَّةِ قُلتُ لَا أَدْرِي قَالَ اسْمُهُ الظفر. ( الكتب الاربعة (الفروع من الكافي)، كتاب الزي والتجمل والمروءة، باب الفيروزج، ج:1، ص:955)

الفيروزج حجر كريم وهو المعروف بالفيروز...أما الخواص الطبية التي عزاها إليه العرب فلم يذكر الاوروبيون عنها شيئا...كان لمؤلفي العرب نزوع إلى الغلو في اعتقاد الخواص الغریبة في الأحجار فقد ذكرو للفيروزج خواص لا تعقل. ( دائرۃ معارف القرن العشرین لمحمد فريد وجدي، ج:7، ص:566-567)

فرزج: ومما يستدرك على المصنف هنا: الفيروزج: وهو ضرب من الأصباغ. قلت: ويطلق على الحجر المعروف. وذكر له الأطباء خواص. وجعله شيخنا (الفيرج) كصيقل، واستدركه في فرج، وهو وهم. (تاج العروس، فسج، ج:6، ص:150)


فتویٰ نمبر : 5182/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں