بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ٹیکس فری زون میں رہنےوالےکاٹیکس زون والےکواکاؤنٹ دےکرتنخواہ لینا


سوال

ایک آدمی ٹیکس زون میں رہتا ہے (مطلب اگر وہ کوئی کاروبار کرےگا تو حکومت کو ٹیکس دینا ہوگا) جبکہ میں ٹیکس فری زون میں رہتا ہوں (مطلب اگر میرے اکاؤنٹ کے ذریعے پیسے آئیں یا جائیں تو مجھے کچھ وقت تک ٹیکس معاف ہے). اب وہ دوست مجھے کہہ رہا ہے کہ میں آپ کا اکاؤنٹ اپنے لئے استعمال کرونگا اور آپ کو میں ماہانہ تنخواہ دونگا۔ تو مفتی صاحب شرعی لحاظ سے اس سے تنخواہ لینا اور اس کو یہ سہولت دینا کس طرح ہے۔ اس سہولت کے وجہ سے مجھے وہ یہ جاب آفر کر رہا ہے۔ جب یہ سہولت ختم ہو جائے گی تب نہیں ہوگا؟

جواب

                 شریعت مطہرہ کی رو سے خدمات  کے عوض اجرت حاصل کرنا اجارہ کہلاتا ہے عقد اجارہ کی صحت کے لئے جو شرائط ہیں ان کی رعایت رکھنے کی صورت میں یہ عقد جائز ہے۔

             صورت مسؤلہ کےمطابق سہولت دینےکےعوض تنخواہ لیناجائزہےیعنی  ٹيكس فری زون میں رہنےوالاشخص اگراپنے اکاؤنٹ سے ٹیکس زون میں رہنےوالےشخص کے لئے رقم کی ترسیل کرتاہے اور  اس کوسہولت و خدمات  فراہم کرتاہےتوسہولت وخدمات کے عوض اجرت(تنخواہ)لینا  جائز ہے۔

 

وان وردت الإجارة على العمل كالخياطة و الصبغ ،  فلا يجب الأجر مالم يفرغ الأجير من العمل (شرح المجلة لسليم رستم باز  ، كتاب الإجارة ، الباب الثاث،ص:265)

(فالأول من يعمل لا لواحد ) كالخياط ونحوه ( أو يعمل له عملا غير موقت )۔۔۔۔۔۔۔( ولا يستحق المشترك الأجر حتى يعمل).  (الدر المختارعلى صدرردالمحتار ، كتاب الإجارة ، باب ضمان الأجير ، 9/94)


فتویٰ نمبر : 3190/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں