بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سامان تجارت ميں قیمتِ فروخت کا اعتبار


سوال

اگرکوئی دکاندارزکوۃ ادا کرنا چاہے،تو ادائیگی زکوۃ کے لیے سامانِ تجارت کی قیمت کس طرح لگائے گا ،کیا قیمتِ خرید کا اعتبار کرے گا یا قیمتِ فروخت کا؟

جواب

           واضح رہے کہ سامانِ تجارت میں زکوۃ کی ادائیگی کے حوالے سے قیمتِ فروخت کا اعتبار ہے،یعنی جو سامانِ تجارت موجود ہے تو زکوۃ کی ادائیگی کے وقت اس کی قیمتِ فروخت کے حساب سے زکوۃ ادا کی جائے گی ۔

           صورت مسؤلہ کے مطابق اگرایک دکاندارکے پاس بقدر نصاب مال  تجارت ہو اور اس پر سال گزرجائے تو اس پر قیمت فروخت کے اعتبار سے زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔

 

(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غين الاعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الاداء.وفي السوائم يوم الاداء إجماعا، وهو الاصح،۔(ردالمحتار،كتاب الزكوة،باب زكوة المال،ج:3 ص: 229)


فتویٰ نمبر : 9291/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں