بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 15/08/2026 |
دارالافتاء
وصیت کو نافذ کرنے میں تاخیر کرنا
سوال
ایک آدمی نے وصیت کی مثلا کے فلاں مدرسے کو میرے مال سے ایک لاکھ روپے دے دینا لیکن میت نے مال نہیں چھوڑا ہے بلکہ سب کا سب ترکہ مکانات اور دکانوں کی شکل میں ہے اور حال یہ ہے کہ اس وقت دکانوں اور مکانوں کی قیمت بہت کم ہے اور سستے ہیں تو ورثاء کہتے ہیں کہ ابھی ان کی قیمت بہت کم ہے لہٰذا کچھ مدت گزر جانے کے بعد جب ویلیو کچھ بڑھ جائے گی تو فروخت کر کے ثلث مال سے وصیت ادا کریں گے اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا وصیت کی ادائیگی میں تاخیر کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب
کسی شخص کے فوت ہونےکے بعداس کے باقی ماندہ مال کا حکم یہ ہےکہ سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا خرچ نکالا جائے،اس کے بعد اگر مرحوم نے کسی کا قرض دینا ہوتو وہ اداکیا جائے ،اس کے بعد بقیہ کے ایک تہائی حصے میں سے اس کی وصیت نافذ کردی جائے ،اس کے بعد بقیہ ورثا کا حق ہے ،صورت مسؤلہ میں ورثا پر لازم ہے کہ جلد از جلد مرحوم کی وصیت کو پورا کریں ، مرحوم نے اگر نقدی نہیں چھوڑی تو اس نے جو مکانات اور دوکانیں چھوڑی ہیں،ان میں سے کوئی چیز فروخت کرکے وصیت پر عمل کیا جائے۔نیز جائیداد کی قیمت کا کم ہونا وصیت پر عمل میں تاخیر کی شرعی وجہ نہیں بن سکتی ۔
فإن قال الموصي أحجوا عنى بثلث مالي، وثلث ماله يبلغ حججا حج عنه حججا كذا روى القدوري في شرحه مختصر الكرخي ......ثم الوصي بالخيار إن شاء أحج عنه الحجج في سنة واحدة، وإن شاء أحج عنه في كل سنة واحدة، والأفضل أن يكون في سنة واحدة؛ لأن فيه تعجيل تنفيذ الوصية، والتعجيل في هذا أفضل من التأخير.(بدائع الصنائع ،کتاب الحج ،فصل فی سبب وجوب الحج،ج: 2، ص: 223)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں