بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

دودھ پیتے ہی قے کرنا


سوال

اگرکوئی عورت ایک سالہ  بچی کو ایک دو گھونٹ دودھ بھرتے ہی  بچی قے کر لے   جس کی وجہ سے سارا دودھ باہر نکل آئے اور  غالب گمان بھی یہ ہو کہ دودھ بچی کے حلق تک نہیں  پہنچ گیا ہے تو کیا اس صورت  میں رضاعت ثابت ہوجائے گی یا نہیں ؟

جواب

              بچے کا کسی عورت سےحرمت  رضاعت   کا  ثبوت اس وقت ہوتا ہے جب مدت رضاعت (دوسال)میں اس عورت کا دودھ  اس بچے کے منہ یا ناک کے ذریعے پیٹ میں یقینی طور پرپہنچ جائے چاہے دودھ تھوڑی مقدار میں ہو یا زیادہ  مقدار میں ۔

               صورت مسؤلہ کے مطابق اگر عورت کا دودھ بچی کے پیٹ میں جانا یقینی نہ ہو تو   حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوگی،تاہم احتیاط اسی میں ہے کہ اس  بچی کا  مرضعہ یعنی (دودھ پلانے والی )عورت کی اولاد کے ساتھ نکاح وغیرہ نہ کرایا جائے۔

 

قليل الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية. قال في الينابيع. والقليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف۔(الفتاوی الهندية،كتاب الرضاع ،ج:1،ص:409)

قوله قليل الرضاع وكثيره سواء إذا تحقق في مدة الرضاع تعلق به التحريم) وبه قال مالك أما لو شك فيه بأن أدخلت الحلمة في فم الصغير وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك۔(فتح القدير ،كتاب الرضاع،ج:3،ص:304)


فتویٰ نمبر : 6538/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں