بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
مؤمل بن اسماعیل راوی کی تحقیق
سوال
امام ذہبی اور ابن حجر نے امام بُخاری رحمہ اللہ کاقول نقل کیا ہے مؤمل بن اسماعیل راوی کے بارے میں کہ یہ منکر الحدیث ہے یہ قول امام بُخاری کی کونسی کتاب میں ہے۔ یاد رہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی کتاب التاریخ الکبیر میں یہ جرح ایک دوسرے راوی کے بارے میں ہے جس کا نام مؤمل بن سعید بن یوسف ہے لہذا یا تو یہ جرح غلطی سے امام ذہبی اور ابن حجر رحمہمااللہ نے لکھا ہے یا اگر صحیح ہے تو امام بُخاری رحمہ اللہ کی کونسی کتاب میں ہے؟
جواب
امام بخاری رحمہ اللہ کی اسماء الرجال پر دو مشہور کتابیں ہیں کتاب الضعفاء اور التاریخ الکبیر،کتاب الضعفاء میں امام بخاری رحمہ اللہ نے مؤمل بن اسماعیل کا تذکرہ نہیں کیا ہے البتہ التاریخ الکبیر میں مؤمل بن اسماعیل کا تذکرہ کیا ہے لیکن ان کو منکر الحدیث نہیں کہا ہے جب کہ ایک دوسرے راوی مؤمل بن سعید بن یوسف کا تذکرہ کرتےہوئے ان کو منکر الحدیث کہا ہے اور اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح البخاری میں مؤمل بن اسماعیل سے تعلیقًا روایت نقل کی ہے اگر یہ امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک منکر الحدیث ہوتا تو امام بخاری رحمہ اللہ ان سے روایت نقل نہ کرتے،کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ کا قول ہے"كل من قلت فيه منكر الحديث فلا تحل الرواية عنه"(ميزان الاعتدال لذهبي،ج:1،ص:5)یعنی جس راوی کو میں منکر الحدیث قرار دے دوں اس سے روایت لینا جائز نہیں ، چونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے التاریخ الکبیر میں ان دونوں راویوں کا تذکرہ ایک ساتھ کیا ہے اس وجہ سے امام مزی رحمہ اللہ نے غلطی سے تہذیب الکمال میں مؤمل بن سعید بن یوسف کی بجائے مؤمل بن اسماعیل کو منکر الحدیث کہہ کر امام بخاری رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا ہےپھر امام مزی رحمہ اللہ سے امام ذہبی رحمہ اللہ نے میزان الاعتدال میں اور ابن حجر رحمہ اللہ نے تہذیب التہذیب میں اسی قول کو نقل کیا ہے حالانکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے مؤمل بن سعید بن یوسف کو منکر الحدیث کہا ہے،نیز یہ بھی واضح ہو کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے علاوہ بعض دیگر ائمہ کرام نےبھی مؤمل بن اسماعیل کو ضعیف کہا ہے، چنانچہ" العلل ومعرفۃ الرجال عن الامام احمد بن حنبل" میں امام احمدبن حنبل رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے "مؤمل كان يخطي" کہ مؤمل غلطی کرتے تھے جب کہ امام مزی رحمہ اللہ نے تہذیب الکمال میں ابو عبید کا قول نقل کیا ہےکہ "سألت أبا داود عن مؤمل بن إِسماعيل ، فعظمه ورفع من شأنه الا انه يهم في الشئ" کہ میں نےاما م ابو داود سے مؤمل بن اسماعیل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس راوی کی عظمت شان کو بیان کیا البتہ یہ کہا کہ :لیکن یہ بعض چیزوں میں غلطی کرتے ہیں،اسی طرح امام یعقوب بن سفیان الفسوی رحمہ اللہ نے "المعرفۃ والتاریخ للفسوی" میں مؤمل بن اسماعیل کے بارے میں لکھا ہے"ومؤمل بن إسماعيل سني شيخ جليل، سمعت سليمان بن حرب يحسن الثناء عليه يقول: كان مشيختنا يعرفون له ويوصون به، إلا أن حديثه لا يشبه حديث أصحابه، حتى ربما قال: كان لا يسعه أن يحدث وقد يجب على أهل العلم أن يقفوا عن حديثه، ويتخففوا من الرواية عنه؛ فإنه منكر يروي المناكير عن ثقات شيوخنا، وهذا أشد فلو كانت هذه المناكير عن ضعاف لكنا نجعل له عذراً" اسی طرح بعض دیگر ائمہ کرام بھی مؤمل بن اسماعیل کے ضعف کا قول کرتے ہیں جس کی وجہ سے فقہاے احناف نماز میں قیام کی حالت میں ناف کے نیچے ہاتھ رکھنے کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور مؤمل بن اسماعیل کی وہ روایت جس میں سینے پر ہاتھ رکھنے کی بات ہے اس کو ترک کر دیتے ہیں۔
عن أبي جحيفة، أن عليا رضي الله عنه، قال: «من السنة وضع الكف على الكف في الصلاة تحت السرة».(سنن ابي داود،باب وجع اليمنى على اليسرة في الصلوة،ج:1ص:201)
وقال موسى بن مسعود: حدثنا سفيان بن سعيد، عن أبي إسحاق، عن البراء بن عازب رضي الله عنهما، قال: صالح النبي صلى الله عليه وسلم المشركين يوم الحديبية على ثلاثة أشياء: على أن من أتاه من المشركين رده إليهم، ومن أتاهم من المسلمين لم يردوه، وعلى أن يدخلها من قابل ويقيم بها ثلاثة أيام، ولا يدخلها إلا بجلبان السلاح السيف والقوس ونحوه، فجاء أبو جندل يحجل في قيوده، فرده إليهم قال أبو عبد الله: " لم يذكر مؤمل، عن سفيان: أبا جندل، وقال: إلا بجلب السلاح ".(صحيح البخاري،باب الصلح مع المشركين،ج:3ص:185)
2107 - مؤمل بن اسمعيل أبو عبد الرحمن مولى آل عمر بن الخطاب (القرشي) سمع الثوري وحماد بن سلمة مات سنة خمس أو ست ومائتين، البصري سكن مكة.(التاريخ الكبير للبخاري،2017:مؤمل بن اسماعيل،ج:8،ص:49)
2108 - مؤمل بن سعيد بن يوسف أبو فراس الرحبي الشامي سمع أباه سمع منه سليمان بن سلمة، منكر الحديث.(التاريخ الكبير للبخاري،2018:مؤمل بن سعيد بن يوسف،ج:8،ص:49)
مؤمل بن إِسماعيل القرشي العدوي ، أبو عبد الرحمن البَصْرِيّ ، نزيل مكة ، مولى آل عُمَر بن الخطاب ، وقيل مولى بني بكر بن عبد مناة بن كنانة... وَقَال أبو حاتم : صدوق ، شديد في السنة ، كثير الخطأ وقَال البُخارِيُّ : منكر الحديث.(تهذيب الكمال للمزي،المهلب بن ابي حبيبة،ج:29،ص:176)
8949- مؤمل بن إسماعيل ، أبو عبد الرحمن البصري ، مولى آل عمر بن الخطاب ، حافظ عالم يخطئ . روى عن شعبة ، وعكرمة بن عمار . وعنه أحمد ، وبندار ، ومؤمل بن يهاب ، وطائفة . وثقه ابن معين . وقال أبو حاتم : صدوق شديد في السنة كثير الخطأ . وقال البخاري : منكر الحديث.(ميزان الاعتدال لذهبي،8949:مؤمل بن اسماعيل،ج:3،ص:151)
682- البخاري في التعاليق وأبي داود في القدر والترمذي والنسائي وابن ماجة مؤمل بن إسماعيل العدوي مولى آل الخطاب وقيل مولى بني بكر أبو عبد الرحمن البصري نزيل مكة... وقال البخاري منكر الحديث.(تهذيب التهذيب لابن حجر،682:مؤمل بن اسماعيل:ج:9،ص:272
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں