بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قبر کو چومنا


سوال

کیا والدین کی  قبر کو چومنا جائز ہے ؟ 

جواب

             قبرکابوسہ لینا ممنوع ہے کیونکہ یہ نصاری کی عادت ہے اور مسلمانوں کو ان کی مشابہت سے بچنا لازم ہے، نیز بوسہ لینے میں سجدہ کی کیفیت پائی جاتی ہے، اور قبر کو سجدہ گاہ بنانے سے حدیث میں منع کیا گیا ہے، بوسہ لینے میں چاہے سجدہ مقصود نہ ہو لیکن ظاہری ہیئت موہم شرک ہے اس لیے عام حالات میں اس سے بچنا چاہیے، تاہم اگر کوئی تنہائی میں فرطِ محبت وعقیدت کی بنا پر والدین کی قبر کا  بوسہ لے تو  امید ہے کہ اس کا مواخذہ نہ ہوگا ۔ لیکن اس کی عادت نہ بنائے، اور عام لوگوں کے سامنے ایسا نہ کیا جائے۔

 

قال برهان الترجماني: لا نعرف وضع اليد على المقابر سنةً ولا مستحسنًا ولا نرى به بأسًا، وقال عين الأئمة الكرابيسي: هكذا وجدناه من غير نكير من السلف، وقال شمس الأئمة المكي: بدعة، كذا في القنية.ولا يمسح القبر ولا يقبله فإن ذلك من عادة النصارى ولا بأس بتقبيل قبر والديه كذا في الغرائب.(الفتاوی الهندية:كتاب الكراهية،ج:5،ص:405)


فتویٰ نمبر : 5178/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں