بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

امانت کے پیسوں پر کا روبار کرنا


سوال

زید  کو تین یا چار  آدمیوں کے ذریعے  امانت کے پیسے پہنچ گئے   اور اس کے ساتھ بہت عرصہ پڑے رہے لیکن ابھی تک نہ اس کا مالک آیاہے اور نہ   اس کے ورثاء مل رہے ہیں  تو کیا زید  ان پیسوں پر تجارت شروع کرکے آدھا منافع اپنے پاس رکھے اور آدھا  اس شخص کے نام پر صدقہ کرے  تو  ایسا کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

               شرعی نقطہ نظر سے جب کسی کے پاس کوئی چیز امانت کے طور پر رکھی جائے تو اس کی حفاظت کرنا اور مطالبہ پر مالک کو واپس کرنا امین کی ذمہ داری ہے۔

              صورت مسؤلہ میں   زید کو جو امانت کے پیسے پہنچ گئے ہیں تو زید کو چاہیے کہ اس کے مالک کو تلاش کرکے امانت کو واپس لوٹائےاگر مالک نہ ملے تو اس کے ورثا کو تلاش کرے  اور ان  کو حوالہ کرے،اگر ان میں سے کوئی صور ت ممکن نہ ہو تو یہ لقطہ (گمشدہ چیز)کے حکم میں شمار ہوگا   جس کا حکم یہ ہے  کہ یا تو اس کو اپنے پاس محفوظ رکھےتاکہ مالک آجانے کی صورت میں اس کو حولہ کرے یا اس کو صدقہ کرے ،نیز اگر یہ آدمی خود زکوۃ  کا مستحق ہو تو  خود بھی  استعمال کرسکتا ہے ۔

 

غاب المودع ولا يدري حياته ولا مماته يحفظها أبدا حتى يعلم بموته وورثته۔۔۔ولا يتصدق بها بخلاف اللقطة۔(الفتاوی الهندية،كتاب الوديعة،الباب السابع في رد الوديعة،ج:4،ص:354)

يَجُوزُ لِلْمُلْتَقِطِ أَنْ يَنْتَفِعَ بِاللُّقَطَةِ إذَا كَانَ فَقِيرًا وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَقِيرًا لَمْ يَجُزْ وَيَتَصَدَّقُ بِهَا عَلَى الْفَقِيرِ أَجْنَبِيًّا كَانَ أَوْ قَرِيبًا لَهُ أَوْ زَوْجَةً لَهُ۔(تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق ،كتاب اللقطه،ج:4،ص:221)


فتویٰ نمبر : 3187/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں