بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

عورت كانامحرم مردپرنظرپڑنے کوزنا شمارکرنا


سوال

 كيا كسی عالم کا یہ کہنا درست ہےکہ : اگر کوئی عورت  درس وتدریس کے لیے گھر سے نکلے   تو  اس کا راستے میں  نامحرموں  پر نظر پڑنا زنا ہے؟

جواب

            شریعت مطہرہ کی رو سے عورت کا نامحرموں پر بلا شہوت نظر پڑھنا حرام نہیں بلکہ احادیث نبویہ اس بات پر دال ہیں کہ اگر شہوت کی نظر نہ ہو تو عورت کے مرد کو دیکھنے میں کوئی قباحت نہیں ۔  بخاری میں حضرت عائشہ  سے متعلق حدیث نقل کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ میرے لیے پردہ کرتے اور میں آپ ﷺ کے پیچھے سے حبشیوں کا کھیل دیکھتی  اسی طرح  یہ بھی نقل ہے کہ جب تک  آپ نہ  اکتاتی تب تک رسول اللہ ﷺ اسی طرح کھڑے رہتے اور آپ دیکھتی رہتی ۔ مذکورہ روایت سے معلوم ہوا کہ عورت کا مرد کو دیکھنے میں وسعت ہے جب تک کہ شہوت کی نظر سے نہ دیکھا جائے لہذا جب قصداً دیکھنے میں گنجائش ہے تو بلا قصد راستے میں کسی نامحرم مرد پر نظر پڑنا کیسے زنا شمار ہوسکتا ہے ۔ جن احادیث میں آنکھوں کی زنا کا تذکرہ ہے اس سے مراد بنظرِ شہوت نامحرم کو دیکھنا ہے  اور اگر اچانک ایسی نظر پڑھ بھی جائے تو بھی پہلی نظر معاف ہے اور اپنی نظروں کو پھیرنا لازم ہےجیساکہ آپ ﷺ نے حضرت جریر سے فرمایا  کہ اپنی نظر پھیر لیا کرو۔

 

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي المَسْجِدِ، حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَسْأَمُ ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الجَارِيَةِ الحَدِيثَةِ السِّنِّ، الحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ. (صحيح البخاري، كتاب النكاح، باب نظر المرأة إلى الحبش ونحوهم من غير ريبة، حديث:5236)

عن ابن بريدة، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: يا علي لا تتبع النظرة النظرة، فإن لك الأولى وليست لك الآخرة. (سنن أبي داؤد، كتاب النكاح، باب ما يؤمر به من غض البصر، ج:2، ص:246)

عن جرير بن عبد الله، قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نظر الفجاءة فأمرني أن أصرف بصري. (صحيح مسلم، كتاب الآداب، باب نظر الفجأة، حديث:2159)

قال: وفيه: أنه لا بأس بنظر المرأة إلى الرجل من غير ريبة، ألا ترى ما اتفق عليه العلماء من الشهادة عليها أن ذلك لا يكون إلا بالنظر إلى وجهها؟ ومعلوم أنها تنظر إليه حينئذ كما ينظر الرجل إليها، والله أعلم. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، كتاب النكاح، باب نظر المرأة إلى الحبش ونحوهم من غير ريبة، حديث:5236، ج:20، ص:217)

وليس زنا العينين إلا النظر عن شهوة ولأن النظر عن شهوة سبب الوقوع في الحرام فيكون حراما. (بدائع الصنائع، كتاب الإستحسان، ج:5، ص:122)


فتویٰ نمبر : 5149/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں