بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

عقد فسخ ہونے کی صورت میں کمیشن کا حکم


سوال

اگر کوئی دکان کا  مالک پراپرٹی ڈیلر  سے اپنی دکان  کے لیے کرایہ دار تلاش کرنے کا مطالبہ کرے اور  پراپرٹی ڈیلر کرایہ دار  مہیا کرے ، پھر دکان کا مالک اورکرایہ دار  آپس   میں دکان کا کرایہ طے کر لیں البتہ اس عقد کو تحریر نہ کیا ہو اور اس کے بعد  کسی وجہ سے عقد  کو فسخ کرلیں  تو ایسی صورت میں پراپرٹی ڈیلر کمیشن کا مستحق ٹھہرے گا یا نہیں ؟

جواب

          واضح رہے کہ  کسی چیز کی خرید و فروخت کےلیےبائع اور مشتری کے درمیان  جوواسطہ کا کام  کرتا ہے اسے شریعت کی اصطلاح میں دلا ل   کہتے  ہیں۔ دلال اپنے حصے کا کام کرکے  طے شدہ اجرت کا مستحق ہوجاتا ہے ،کام کی تکمیل کے بغیر  مقررہ اجرت (  کمیشن) کا حق دار نہیں ہوتا۔

           صورت مسؤلہ کے مطابق اگر پراپرٹی ڈیلر  دکان کے مالک کی طرف کرایہ دار کی رہنمائی کرے    اور دونوں آپس میں  کرایہ طے کر کے عقد بھی کر لیں صرف تحریر نہ لکھی ہو  اور ا  س کے بعد عقد کو فسخ کر لیں تو چونکہ پراپرٹی ڈیلر نے اپنے حصے کا کام مکمل کر لیا ہے جو کہ دکان کے مالک اور  کرایہ دار کے درمیان عقد  کرنے میں واسطہ کا کردار اداکرنا ہےاس لیے  پراپرٹی ڈیلر اپنی محنت کے عوض کمیشن کا مستحق ٹھہرے گا اگر چہ عقد تام کرنے کے بعدفریقین اس کو فسخ کر لیں البتہ اگرطرفین نے  باقاعدہ عقد نہ کیا ہونہ ہی تحریر لکھی ہو  تو ایسی صورت میں صرف رہنمائی کرنے پر کمیشن کا مستحق نہیں ٹھہرے گا ۔

 

 ( سئل ) في دلال سعى بين البائع والمشتري وباع البائع المبيع بنفسه والعرف أن الدلالة على البائع ثم إن المشتري رد المبيع على البائع قام البائع يطالب الدلال بالدلالة التي دفعها له فهل ليس له ذلك ؟ ( الجواب ) : نعم ذكر في الصغرى دلال باع ثوبا وأخذ الدلالة ثم استحق المبيع أو رد بعيب بقضاء أو غيره لا تسترد الدلالة وإن انفسخ البيع ؛ لأنه لم يظهر أن البيع لم يكن فلا يبطل عمله عمادية من أحكام الدلالة۔(العقود الدريةفي تنقيح الفتاوى الحامدية،كتاب البيوع،ج:1،ص:445)

قال للدلال: اعرض ضيعتي وبعها على أنك إذا بعتها فلك من الأجر كذا فلم يقدر الدلال على إتمام الأمر ثم باعها دلال آخر قال أبو القاسم ولو عرضها الأول وصرف فيه روزجارا يعتد به فأجر مثله له واجب بقدر عنائه وعمله قال أبو الليث - رحمه الله تعالى - هذا هو القياس ولا يجب له استحسانا إذا تركه وبه نأخذ وهو موافق قول يعقوب - رحمه الله تعالى - وهو المختار هكذا في الفتاوى الكبرى.۔۔۔۔۔۔ الدلال في البيع إذا أخذ الدلالة بعد البيع ثم انفسخ البيع بينهما بسبب من الأسباب سلمت له الدلالة كالخياط إذا خاط الثوب ثم فتقه صاحب الثوب. كذا في خزانة المفتين۔(الفتاوى الهندية، الباب السادس عشر في مسائل الشيوع في الإجارة،ج:4،ص:487،488)

(قوله: والسمسار) هو المتوسط بين البائع والمشتري بأجر من غير أن يستأجر."(ردالمحتار علی الدر المختار، فصل فی المتفرقات فی المضاربة،ج:5،ص:656)

"(و لايستحق ‌المشترك ‌الأجر حتى يعمل كالقصار ونحوه) كفتال و حمال و دلال و ملاح."( الدر المختار، باب ضمان الأجیر، ج:6،ص:64) 

إجارۃ السمسار والمنادی والحمامی والصکاک وما لایقدر فيه الوقت ولاالعمل تجوزلما کان للناس به حاجة،ویطیب الأجرالمأخوذ لو قدر أجرالمثل۔(ردالمحتارعلی الدرالمختار،باب الإجارۃالفاسدۃ،ج9،ص64)


فتویٰ نمبر : 3160/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں