بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

منہ بولے بیٹےسے پردہ کرنا


سوال

اگر کوئی عورت کسی بچےکو بیٹا مان لے تو کیا سن بلوغ کو پہنچ جانے کے بعد اس پر اس بچےسے پردہ  کرنا لازم ہوگا یا نہیں، اور اس کا شمار محارم میں ہوگا یا غیر محرم ؟ 

جواب

           شریعت مطہرہ میں عورتوں کے لیے پردہ  نہ کرنے کی رخصت صرف ان مردوں سے ہے جن کو اللہ تعالی نےمحرمات کی فہرست میں ذکر کیا ہے ۔ ان کے علاوہ  مردوں سے پردہ کرنا واجب ہے ۔کسی دوسرے شخص کے بچے کو منہ بولا بیٹا بنا کر پالنے سے اس سے کوئی رشتہ ثابت نہیں ہوتا۔ لہذااگروہ منہ بولا بيٹا  نسبی یا رضاعی محرمات  میں سے ہومثلا بھتیجا،بھانجہ وغیرہ ہو تو بالغ ہونے کےبعد اس سے پردہ ضروری نہیں ، اور اگر محرمیت کا کوئی رشتہ نہ ہو تو نامحرم ہونے کی بناپربلوغت کےبعد اس سےپردہ ضروری ہوگا ۔

 

قال الله تعالی:وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ۔(الاحزاب:4)

فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك۔(التفسير المظهري،سورة الاحزاب:4، ج:7،ص:386)


فتویٰ نمبر : 6511/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں