بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بریلوی لڑکی سے نکاح کرنا


سوال

 دیوبندی مسلک کے مردکا بریلوی مسلک کی لڑکی سے نکاح کرنا شرعا  جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

             دیوبندی مسلک کے مرد کابریلوی مسلک کی لڑکی سے نکاح شرعا جائز  ہے ،تاہم بہتر یہ ہےکہ  ہم مسلک  لڑکی  سے شادی کی جائے  ، کیونکہ   نکاح کی پائیداری میں میاں بیوی کے مزاج  اور خیالات میں ہم آہنگی کا  بڑا دخل ہوتا ہے۔نظریات کا اختلاف  کبھی کبھا ر شدت اختیار کرلیتا ہےجو باہمی تفرقہ کا سبب بنتا ہے ،نیز اگر کسی شخص کا نظریہ اس حدتک پہنچا ہو جس  کی وجہ سے  اسلام کی حدود پار  کئےہو ں تو پھر اس سے نکاح جائز نہیں ۔

 

عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " تنكح المرأة لأربع: لمالها ولحسبها وجمالها ولدينها، فاظفر بذات الدين، تربت يداك ۔(صحيح البخاري،باب الأكفاءالدين، ج:3،ص:1451،الرقم:5090)

عن عبد الله بن عمرو، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «الدنيا متاع، وخير متاع الدنيا المرأة الصالحة»(صحيح مسلم،باب خير متاع الدنياالمراةألصالحة،ج:2،ص:1000)

ومنها أن لا تكون المرأة مشركة إذا كان الرجل مسلما، فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة۔)بدائع الصنائع ،كتاب النكاح ،فصل في نكاح المشركة ،ج:3،ص:458)


فتویٰ نمبر : 6534/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں