بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی دیوار پر تصویر ی اشتہار لگانا


سوال

مسجدکے بیرونی دیوارپر تصویری اشتہار لگانا کیسا ہے؟

جواب

           جو جگہ شرعاً مسجدہوتی ہےوہ اوپر نیچے سب مسجد ہوتی ہےاس کو مسجد کےعلاوہ دیگر مقاصد میں استعمال کرنا جائز نہیں،چونکہ مسجد کی دیوار بھی وقف کا حصہ ہے،لہٰذااس میں کوئی ایساتصرف کرنا جس سے مسجد کی بے احترامی لازمی آتی ہو،ناجائز ہے۔

          صورت مسئولہ کے مطابق ایسااشتہارجس پرذی روح کی تصاویرہوں ،انہیں مسجد جیسی مقدس جگہ کی دیواروں پر لگانے سے اجتناب لازمی ہے، کیونکہ اس میں تصویر کے گناہ کے ساتھ ساتھ مسجد کی بے احترامی بھی لازم آتی ہے،جو شرعاً ناجائز ہے،تاہم ایسا اشتہارجو مصالح مسجد سے متعلق ہو، مسجدکی دیوارپر لگانے کی گنجائش ہے۔

 

”ولايجوزان يعلق فی موضع شيئافيه صورةذات روح “۔الفتاوی الھندیہ،کتاب الکراھیۃ،الباب العشرون،جلد5،صفحہ359)۔

وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18]۔۔۔ولا يوضع الجذع على جدار المسجد وإن كان من أوقافه ،قلت: وبه حكم ما يصنعه بعض جيران المسجد من وضع جذوع على جداره فإنه لا يحل۔۔۔ولا سيما ما يترتب على ذالك من تقذ ير المسجد۔( الدرالمختار مع رد  المحتار،فرع بناء بيتا للإمام فوق المسجد،ج:6،ص:548)


فتویٰ نمبر : 5163/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں