بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

نزول عیسیٰ علیہ السلام اور عقیدۂ ختم نبوت


سوال

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبی کی حیثیت سے مبعوث فرمایا تھا اور دوبارہ نبی کی حیثیت سے آئیں گے جبکہ حضورﷺ کا ارشا د ہے:أنا خاتم النبیین لا نبی بعدی۔اور اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نبی ہونے کی حیثیت سے نہیں آتے  تو ایک نبی غیر نبی کیسے ہوسکتا ہے؟

جواب

            عقیدہ ختم نبوت کامطلب یہ ہے کہ حضورﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی،یہ امت کا اجماعی عقیدہ ہےاور قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی سابقہ نبوت پر برقرار رہتے ہوئےتشریف لائیں گے البتہ ایک امتی اور حاکم وقت کی حیثیت سے آکرامت محمدیہ کو دی جانے والی شریعت کےمطابق فیصلہ کریں گےاور  شریعت محمدیہ کے مطابق امت مسلمہ کی رہنمائی فرمائیں گے،کیونکہ حضورﷺ کی تشریف آوری سے ان کی شریعت منسوخ ہوگئی ہے،چونکہ ان کی نبوت نئی نہیں ہوگی اس لیےنزول عیسیٰ علیہ السلام سے ختم نبوت کے اجماعی عقیدے پر کوئی زد نہیں پڑتاہے۔

 

وقال رسول اللهﷺ :والذي نفسي بيده أن ينزل فيكم ابن مريم حكماعدلا۔۔۔قوله:حكماأي حاكما، والمعنى أنه ينزل حاكما بهذه الشريعة،فان هذه الشريعة باقية لا تنسخ بل يكون عيسى حاكما من حكام هذ ه الأمة۔۔۔وللطبراني من حديث عبد الله بن مغفلؓ ينزل عيسى ابن مريم مصدقا بمحمد على ملته اماما مھدیا وحکما عدلا فیقتل الدجال۔(فتح الباري شرح صحيح البخاري،كتاب الانبياء،باب نزول عيسى  عليه السلام،ج:7،ص:165)۔

ثم إنه عليه السلام حين ينزل باق على نبوته السابقة لم يعزل عنها لكنه لا يتعبد بها لنسخها في حقه وحق غيره وتكليفه بأحكام هذه الشريعة أصلاً وفرعاً فلا يكون إليه عليه السلام وحي ولا نصب أحكام بل يكون خليفة لرسول الله صلى الله عليه وسلم وحاكماً من حكام ملته بين أمته بما علمه في السماء قبل نزوله من شريعته عليه الصلاة والسلام كما في بعض الآثار۔(تفسیرروح المعاني،ج:22،ص:34)


فتویٰ نمبر : 5246/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں