بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/10/2026

دارالافتاء

 

ایک مسجد میں وضو کرکے نماز کے لیے دوسری مسجد جانا


سوال

اگر کوئی آدمی وضو ایک مسجد میں کرے اور نماز پڑھنے  کے لیے دوسری مسجد  جائےتو کیا اس طرح کرنا صحیح ہے؟

جواب

             اذان کے بعدنماز پڑھے بغیر مسجد سے نکلنے کو فقہائے کرام نے مکروہ تحریمی لکھا ہے،البتہ کسی شرعی یا فطری مجبوری کی وجہ سے نکلنا مکروہ نہیں ،مثلا:کسی دوسری مسجد کا امام یا مؤذن ہو یاکوئی اپنےمحلے کی مسجد میں نماز ادا کرنا چاہتا ہو۔لہٰذا صورت مسئولہ میں اگر کوئی شخص اذان کے بعدایک مسجد میں وضو کرے اور بغیر کسی مجبوری کے نماز کے لیے دوسری مسجد جانا چاہے تو ایسا کرنا کراہت سے خالی نہیں،البتہ شرعی یا فطری مجبوری کی حالت میں نماز  کے لیے دوسری مسجد جانامکروہ نہیں۔

 

قوله(وكره خروجه من مسجد أذن فيه حتي يصلي۔۔۔وهذا يدل علي أن الكراهة تحريمية۔۔۔ واستثني المشائخ منها ما إذا كان ينتظم به أمر جماعة أخري بأن كان موذنا أو إماما في مسجد تتفرق الجماعة بغيبته فإنه يخرج بعد النداء لأنه ترك صورة تكميل معني ۔(البحر الرائق،كتاب الصلوة ،باب ادراك الفريضة،ج:2،ص:127)


فتویٰ نمبر : 9295/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں