بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

سم بکس ڈیوائس لگانے کا حکم


سوال

سم بکس کے نام سے ایک ڈیوائس ہے، جس میں سیلولر سم ڈالی جاتی ہے،طریقہ کار  کچھ یوں ہے کہ یہ انٹرنیشنل کال کو لوکل کال میں تبدیل کرتی ہےمثلاً؛باہر ملک سے پاکستان کوئی کال کرنا چاہے تو باہر والی کمپنی اگر یہاں کے نیٹورک پر ڈائریکٹ کال کریں تو پر کال فی منٹ مثلاً15روپے چارج ہوتے ہیں، لیکن اگریہاں  پراس ڈیوائس کو لگایا جائےاور باہر ملک والی  کمپنی ڈائریکٹ کال کرنے کی بجائے اس ڈیوائس پرکال ڈائیورٹ کرکے کال  کریں تواسی کال کے مثلاً 7 روپے فی منٹ چارج ہوں گے، جس سے کمپنی کوبھی  فائدہ ہوتا ہےاور یہاں پر ڈیوائس لگانے والےکو بھی  کہ  زیادہ ترپیسے مثلًاً 6 روپےاس کے اکاؤنٹ میں چلے جاتے ہے اور تھوڑے سے پیسے مثلاً 1 روپیہ جس کمپنی کی سم ڈیوائس میں ڈالی ہوتی ہے اس کو پہنچتی ہے، کمپنی کی طرف سے اس کی سم مذکورہ ڈیوائس میں لگانا ممنوع ہے۔آیا اس طرح کا سم بکس ڈیوائس لگا کر  کا کاروبار کرنا جائز ہے یاناجائز؟

جواب

              شریعتِ مطہرہ  کی  رو سے کسی کی مملوکہ چیز کواس  کی اجازت اور مرضی کے بغیر استعمال کرناجائز نہیں ہے۔

            صورت مسؤلہ میں مذکورہ تفصیل کے مطابق سم بکس ڈیوائس لگانے والا چونکہ جس کمپنی کا سم استعمال کرتا ہے وہ اس کمپنی کی تمام مشینری اور آلات کو ان کی اجازت اور مرضی کے بغیرچوری چپکےاور دھوکہ دہی کے ذریعےاستعمال کرتا ہے، نیز یہ کام غیر قانونی بھی ہے،اس لیے شرعاً یہ کام جائز نہیں۔

 

قالﷲ تعالی: )يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ‌لَا ‌تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡ ﴾ (النّساء:29)

وعن أبی سعید الخدریّ  عن النبیﷺ  قال: « ألا لکل غادر لواء یوم القیامۃ بقدرغدرته» (مسند أحمد، رقم الحدیث :11268)

عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: « لا یحل مال امرئ مسلم اِلّا بطیب نفس منہ» (السنن الکبریٰ للبیھقی، کتاب الغصب، باب من غصب لوحاً فأدخله في سفينة أو بنى عليه جدارا، ج:8، ص:506)

لا یجوزلأحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی۔ (البحرالرائق، کتاب الحدود، فصل فی التعزیر، ج:5، ص:67)


فتویٰ نمبر : 3149/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں