بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

ویزہ کےلئےپیسےقرض دےکرکمائی میں شریک ہوجانا


سوال

 ایک شخص نےدوسرےشخص سےکہا کہ میں آپ کو پانچ لاکھ روپے دیتا ہوں۔اس پر سعودی عرب کا ویزہ خرید لو اور تم وہا ں جو مہینے کا پیسے کماو گے اسمیں میرا ثلث ہوگا۔اور اگر ویزہ خراب ہوگیا تو وہ میرا نقصان ہو گا۔عمرو نے کہا کہ ٹھیک ہے۔تو کیا یہ معاملہ جائز ہے؟

جواب

            کسی کوقرض رقم دینےکےبعدجتنےپیسےدئےہیں اتنےہی وصول کرنےکااستحقاق ہوتا ہے۔ اس پر اضافی رقم وصول کرنا سود  ہے۔

            لہذاصورت مسئولہ کےمطابق ویزہ کےلئےپانچ لاکھ روپےدینےوالایہی پانچ لاکھ روپےواپس لینے کامستحق ہوگا،اس رقم کی بنیادپرشرکت ثابت نہیں ہوسکتی کہ ویزہ پرجانےوالےکےساتھ اس کی تمام کمائی میں شریک ہو۔

 

"عن فضالة بن عبيد صاحب النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا".(البيهقي في الكبرى ،باب كل قرض جر منفعة فهو ربا،ج:3،ص:571 )

"( كلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر".(الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب البیوع، مطلب كل قرض جر نفعا حرام،ج:5،ص:166)

وأما الذي يرجع إلى نفس القرض فهو أن لا يكون فيه جر منفعة فإن كان لم يجز نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة على أن يرد عليه صحاحا أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه نهى عن قرض جر نفعا ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا لأنها فضل لا يقابله عوض والتحرز عن حقيقة الربا وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض(بدائع الصنائع،كتاب القرض ،فصل فى الشروط:ج:1،ص:597) 


فتویٰ نمبر : 3178/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں