بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھنا


سوال

ہم اپنی مسجد میں نماز جنازہ کے لئے محراب کے دائیں طرف تقریبا ایک یا دو گز کے فاصلے پر مزید ایک چھوٹا دروازہ بنانا چاہتےہیں جس میں ’’میت کو مسجد کی حد سے باہر مع امام اور چند ایک مقتدی ‘‘ کے لیے جگہ ہوگی ۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ : اگر  اس طرح میت کو مسجد کی حد سے باہر رکھیں اور امام اور کچھ مقتدی بھی باہر ہوں  اور باقی تمام مقتدی مسجد کے اندر ہوں تو کیا یہ صورت جنازہ  کی جائز رہے گی یا  نہیں ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ جب مسجد کے محراب کے دائیں طرف کچھ فاصلے پر دروازہ بنایا جائے گا تو امام تو میت کے سینے کے سامنے کھڑا ہو گا،لیکن مقتدیوں کے درمیان میں نہیں ہوگا، تو امام مقتدیوں کے دائیں طرف ہوگا جبکہ بائیں طرف کی صف طویل ہو جائے گي اور دائیں طرف والی چھوٹی ہو جائے گا اور امام جیساکہ عام فرض نماز میں مقتدیوں کے درمیان میں کھڑا ہوتا ہے نماز جنازہ کی اس طرح کی ادائیگی میں مقتدیوں کے درمیان میں نہیں رہے گا بلکہ امام دائیں طرف کو ہو جائے گا،کیا اس طرح جنازہ پڑھنے سے شرعا کوئی قباحت اور حرج تو نہیں ہے؟

جواب

            واضح رہے کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں ۔اگر میت مسجد سے باہر ہو اور امام مع مقتدیوں کے مسجد میں ہو یا میت مسجد میں ہو اور امام مع مقتدیوں کے مسجد سے باہر ہو یامیت، امام اور مقتدی سب کے سب مسجد کے اندر ہوں تو یہ  مذکورہ تینوں صورتیں   مکروہ ہیں اور جب    میت،  امام اور بعض لوگ مسجد سے باہر ہوں اور باقی لوگ مسجد میں ہو تو نمازِ جنازہ  مکروہ نہیں   ۔  عذر کی حالت  جیسے کے بارش وغیرہ  میں  کوئی بھی صورت اختیار کرنے کی گنجائش ہے ۔ نیز صفوں کی ترتیب میں  سنت یہ  ہے کہ امام مقتدیوں سے آگے درمیان میں کھڑا ہو لیکن اگر کسی عذر کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو فقط امام كی تقدیم ہی سے نماز  ادا ہو جائے گی ۔

             صورت مسئولہ میں بیان کردہ نماز جنازہ کی صورت مکروہ نہیں البتہ امام کا مقتدیوں کے سامنے درمیان میں نہ ہونا  خلافِ سنت ہے  لیکن  اس طرح نمازِ جنازہ پڑھ لینے سے نماز ادا ہی سمجھی جائے گی۔  

 

وصلاة الجنازة في المسجد الذي تقام فيه الجماعة مكروهة سواء كان الميت والقوم في المسجد أو كان الميت خارج المسجد والقوم في المسجد أو كان الإمام مع بعض القوم خارج المسجد والقوم الباقي في المسجد أو الميت في المسجد والإمام والقوم خارج المسجد هو المختار، كذا في الخلاصة. ولا تكره بعذر المطر ونحوه. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاة، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل الخامس في الصلاة على الميت، ج:1، ص:165)

وقوله (ولا يصلى على ميت في مسجد جماعة) إذا كانت الجنازة في المسجد، فالصلاة عليها مكروهة باتفاق أصحابنا، وإن كانت الجنازة والإمام وبعض القوم خارج المسجد والباقي فيه لم تكره بالاتفاق، وإن كانت الجنازة وحدها خارج المسجد ففيه اختلاف المشايخ. (العناية شرح الهداية، كتاب الصلاة، باب الجنائز، فصل في الصلاة على الميت، ج:2، ص:492)

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وسطوا الإمام وسدوا الخلل ( وسطوا الإمام ): أي اجعلوا إمامكم متوسطا بأن تقفوا في الصفوف خلفه وعن يمينه وعن شماله والمقصود من ذلك: أن تكون الجماعة فرقتين ،فرقة عن يمين الإمام وفرقة عن يساره، ويكون الإمامُ وسْطهم، وليس المعنى أن يقوم مساويا معهم في وسطهم ، لأن وظيفة الإمام التقدم على القوم. ...قلت: حديث أبي هريرة محمول على الفضيلة دون الوجوب، حتى إذا قامت الجماعة كلهم عن يمين الإمام أو عن يساره تجوز صلاتهم ، ولكن يكونون تاركين للسُنَّة والفضيلة. (شرح سنن ابي داود للعيني، كتاب الصلاة، باب مقام الإمام من الصف، ج:3، ص:236)


فتویٰ نمبر : 5161/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں