بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

شہوت میں کسی عورت کے ساتھ مصافحہ کرنا


سوال

اگر کسی آدمی کو کسی عورت کے لئے پہلے سے شہوت ہو اور دوران شہوت اسی عورت سے مجبورا مصافحہ ہوجائے یا کوئی چیز دیتے یا لیتے وقت اس  کے ہاتھ سے ہاتھ لگ جائے اور اس وقت شہوت میں کوئی اضافہ نہ آئے یا کم ہوجائے تو اس صورت میں حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے یانہیں نیز اس عورت کی بیٹی سےاس شخص کا  نکاح شرعاجائز ہے یا نہیں؟

جواب

             واضح رہے کہ اگر کوئی شخص شہوت کی غیر موجودگی میں کسی قابل شہوت عورت کو چھولے اور اس کے چھونے کے وقت وہ عورت کی حرارت کو یقینی  طور پر محسوس کرلے اور اس دوران اس کو شہوت پیدا ہوجائے  تو اس سے حرمت مصاہرت ثا بت ہوجائے  گی  اور اگر کوئی شخص پہلے سے شہوت میں  ہو اور وہ کسی قابل شہوت  عورت کو اس طور پر چھولے کہ اس کی حرارت محسوس کرے  تو اس دوران  محض چھونے سے اس وقت تک حرمت ثابت نہیں ہوگی  جب تک وہ یقینی طور پر اپنی شہوت میں زیادتی محسوس نہ کرے ۔

              صورت مسؤلہ میں اگر واقعی آدمی کو اس  عورت کے لیے پہلے سے شہوت ہو اور  دوران شہوت اسی عورت کے ساتھ مجبورا مصافحہ ہوجائے  یا اس  کے ہاتھ سے  ہاتھ لگ جائے لیکن اس کی شہوت میں اضافہ  نہ ہوجائے یا کم ہوجائے  تو اس صورت میں حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی،لہذا اس عورت  کی بیٹی سے نکاح کرنا  جائز ہے۔

 

فمن انتشرت آلته فطلب امرأته وأولجها بين فخذي ابنتها لا تحرم عليه أمها ما لم تزدد انتشارا، كذا في التبيين.(الفتاوي الهندية،كتاب النكاح،الباب الثاني في المحرمات ،القسم الثاني المحرمات بالصهرية،ج:1،ص275)

وقوله: بشهوة في موضع الحال، فيفيد اشتراط الشهوة حال المس، فلو مس بغير شهوة، ثم اشتهى عن ذلك المس لا تحرم عليه۔(رد المحتارعلی الدر المختار،كتاب النكاح،باب المحرمات،ج:4،ص:108)


فتویٰ نمبر : 6514/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں