بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

دو طلاقیں دینے کے بعد رجوع کرنا


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیں لیکن اس کی بیوی نے یہ دعوی کیا کہ تین طلاق دی ہیں اس کے بعد شوہر نے دوسری شادی کر لی اب دوسری بیوی اسے چھوڑ کر جا چکی ہے اور اب پہلی بیوی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ شوہر نے اسے دو طلاقیں دی تھیں تین نہیں۔ کیا شرعاً یہ بیوی دوبارہ شوہر کی زوجیت میں آسکتی ہے؟

جواب

               شوہر بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے تو اس کے بعد شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے اور اگر عدت میں رجوع نہ کرے تو عدت گزر جانے کے بعد اگر شوہر اسی عورت سے رشتہ زوجیت قائم کرنا چاہے تو باہمی رضامندی سے دونوں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں البتہ اس کےبعد شوہر ایک طلاق کا مالک ہوگا۔

               صورت مسؤلہ میں اگر شوہر نے واقعی دو طلاقیں دی تھیں تو عدت کے دوران اسے رجوع کرنے کا حق حاصل تھا لیکن اگر اس نے عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تھا تو اسی عورت کو دوبارہ رشتہ ازدواج میں لانے کے لیے دوبارہ باہمی رضامندی سے نکاح کرسکتے ہیں، البتہ اس کے بعد شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا حق ہوگا یعنی اگر کبھی ایک طلاق دی تو اس پر بیوی طلاق مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی۔

 

وإذا طلقها واحدة في الطهر أو في الحيض أو بعد الجماع فهو يملك الرجعة مادام في العدة لأن النبي - صلى الله عليه وسلم - «طلق سودة - رضي الله تعالى عنها - بقوله اعتدي ثم راجعها» ۔ ۔ ۔ فإذا انقضت العدة قبل الرجعة فقد بطل حق الرجعة وبانت المرأة منه، وهو خاطب من الخطاب يتزوجها برضاها إن اتفقا على ذلك. (المبسوط للسرخسي، كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:6، ص:19)


فتویٰ نمبر : 6506/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں