بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

کرسی پر نماز پڑھنے کا حکم


سوال

کرسی پر جب نماز ادا کی جاتی ہے اور بدن اتنی اجازت دے کہ اس کو جھکایا جا سکے ایسی صورت میں رکوع اور سجدہ کے لیے سر سے اشارہ کیا جاۓ یا پھر بدن یا کمر کو جھکایا جائے؟ ساتھ یہ بھی بتایا جائے کہ ہاتھ کیسے رکھے جائیں؟

جواب

                جو شخص قیام پر قادر نہ ہو لیکن زمین پر بیٹھ کر سجدہ کے ساتھ نماز ادا کر سکتا ہوتو اس کوزمین پر بیٹھ کر سجدہ کے ساتھ نماز  ادا کرنا ضروری ہے ،زمین پر سجدہ نہ  کرتے ہوئے کرسی پر یا زمین پر اشارہ سے سجدہ کرنا جائز نہیں۔اوراگر رکوع  سجدہ پر قدرت نہیں اور زمین پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز ادا کر سکتا ہےتو زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرےورنہ کرسی پر بھی نماز اداکرسکتا ہے۔

               صورت مسؤلہ میں اشارہ کے ساتھ جو نماز پڑھی جاتی ہے تواس میں جو کیفیت ثابت ہے اس کے مطابق رکوع اور سجدہ کا اشارہ سر سے کیا جائے گا البتہ سجدہ کے لیے رکوع کی بنسبت سر زیادہ جھکنا ہوگا ،تاکہ دونوں میں فرق واضح ہو،اور رکوع وسجدہ ادا کرنے کے وقت  ہاتھ زانو پررکھ لےیاجس طرح آسان ہو ۔

 

مفارقة المريض للصحيح فيما هو عاجز عنه فأما فيما يقدر عليه فهو كالصحيح ۔(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:196)

وان عجز عن القيام وقدر علي القعود فانه يصلي مكتوبة قاعدا بركوع وسجود ولا يجزيه غير ذالك،(الفتاوى التاتارخانية،ج:2،ص:667)

إذا عجز المريض عن القيام صلى قاعدا يركع ويسجدلقوله عليه الصلاة والسلام لعمران بن حصين رضي الله عنه صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى الجنب تومئ إيماء،ولأن الطاعة بحسب الطاقة.فإن لم يستطع الركوع والسجود أومأ إيماء يعني قاعدا لأنه وسع مثله وجعل سجوده أخفض من ركوعه " لأنه قائم مقامهما فأخذ حكمهما۔(الهداية،باب صلوة المريض،ج:1،ص:77)

عن عمران بن حصين رضي الله تعالى عنه قال كانت بي بواسير فسألت النبي صلى الله عليه وسلم عن الصلاة فقال صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب.(صحيح البخارى،ج:2،ص:48)

ويجعل سجوده أخفض من ركوعه، ولا يرفع إلى وجهه شيئا يسجد عليه، وإن فعل ذلك وهو يخفض رأسه أجزأه، ويكون مسيئا. وفي (الينابيع) : إن وجد منه تحريك رأسه يجوز وإلا لا۔(عمدة القاري،باب صلوة القاعد بالإيماء،ج:7،ص:160)

يخفض رأسه للركوع ثم للسجود أخفض من الركوع جازت صلاته۔(الفتاوى الهندية،باب صلوةالمريض،ج:1،ص:136)

من تعذر عليه القيام لمرض۔۔۔۔أوخاف زيادته۔۔۔۔أو دوران رأسه، أو وجد لقيامه ألما شديدا صلى قاعدا كيف شاء۔(ردالمحتار،باب صلوة المريض،ج:1،ص:101)


فتویٰ نمبر : 9338/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں