بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

کئی سالوں بعد اپنی ماں کے حقِ میراث کا مطالبہ کرنا


سوال

 اگر کوئی آدمی فوت ہو جائے اور اس کے ورثا میں سے اس کی بیٹی نے  اپنے بھائی یعنی میت کے بیٹے  سے اپنا حقِ میراث نہ لیا ہو تو کیا  اس بیٹی کی اولاد کو اپنی ماں کے فوت ہونے کے بعد یہ حق حاصل ہے کہ وہ ماموں یا اس کی اولاد  سے اپنی ماں کے حقِ میراث کا مطالبہ کر یں ؟ 

جواب

             حق وراثت اضطراری حق ہے چنانچہ وارث اپنے مورِث کے متروکہ مال میں سے  اپنے شرعی حصہ کاغیر اختیاری طور پر مالک  بن جاتا ہے۔ مالک بننے کے بعد زمانہ گزرنے سے اس کا حق کبھی ساقط نہیں ہوتا۔ اگر کسی نے ناحق قبضہ میں رکھا ہو تو طویل مدت گزرنے کے باوجوداس کو واپس کرنا لازم ہے۔

             صورتِ مسئولہ  کے مطابق اگر واقعی  عورت نے اپنی زندگی میں اپنا حقِ میراث یا اس کا عوض نہ لیا ہو تو اس  کی وفات کے بعد اس کی اولاد کا  اپنے ماموں اور ان کی اولاد سے اپنی والدہ کے حق میراث کا مطالبہ  کرنا جائز ہے۔  ماموں یا اس کی اولاد کا طویل مدت تک  قابض رہنے سے اُن کی ملکیت  ثابت نہیں ہوتی۔ 

 

الإرث جبري لَا يسْقط بالإسقاط.( قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الدعوی، باب التحالف، ج:7، ص:505)

إن مرور الزمان في اصطلاح الفقهاء عبارة عن منع سماع الدعوى بعد أن تركت مدة معلومة،  وهـذا الـمـنع غير قياسي؛ لأن الحق لا يسقط بتقادم الزمان... قال في تنقيح الحامدية: ثم اعلم أن عدم سماع الدعوى بعد مضي ثلاثين سنة أو بعد الإطلاع على التصرف، ليس مبنيا على بطلان الحق في ذلك، وإنـمـاهـو مـجـرد مـنـع للقضاة عن سماع الدعوى مع بقاء الحق لصاحبه، حتى لو أقربه الخصم يلزمه. (شرح المجلة لسليم رستم باز،الكتاب الرابع عشر في الدعوى، الباب الثاني في مرور الزمان: ص:983)


فتویٰ نمبر : 3324/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں