بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
نہر کے اوپر مسجد کی توسیع ہونے کی صورت میں اعتکاف کا حکم
سوال
ایک مسجد جو کہ کئی دہائیوں سے تعمیر شدہ ہے، مسجد کی ابتدائی تعمیر ایک بڑے سرکاری نالے کے مغربی طرف کی گئی تھی ۔ نالے میں علاقے کے گھروں کا پانی نیز ذرعی زمینوں کو سیراب کرنے کا پانی بھی بہتا ہے ۔ آبادی بٹھنے کی وجہ سے مشرق کی طرف توسیع ہوتی رہی اب صورتحال یہ ہے کہ یہی سرکاری نالا جو کہ شمالاً جنوباً بہتا ہے مسجد کے بڑے ہال کے عین درمیان میں آگیا ہے ۔ مسجد کے بڑے ہال کے کی چار صفیں نالے کے مغربی جانب ہیں اور دو صفیں مشرق کی جانب ہیں جبکہ ایک صف عین نالے کے اوپر ہے ۔ مشرقی سمت میں برآمدہ اور صحن ہے ۔ نیز وضوخانہ بھی مشرق کی طرف ہے۔ اب مسجد ہذا میں اعتکاف کی کیا صورت ہوگی؟ نیز سرکاری زمین وقف کرنے یا خریدنے کی کیا صورت ہوگی؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کہیں کسی نہر وغیرہ پر چھت ڈال کر مسجد کی توسیع کی گئی ہو تو اوپر کا حصہ مسجد شرعی تب بنے گا، جب نہر کی زمین بھی مسجد یا اس کے مصالح کے لیے وقف کر دی گئی ہو۔
صورت مسئولہ میں حسبِ بیان اگر مسجد میں توسیع کرتے وقت در میان میں سرکاری نہر آیاہو تو نہر جس ادارے کی ملکیت ہے ، اس ادارے کے مجاز افسران نے اگر نہر کی زمین مسجد کی توسیع کے لیے وقف کی ہو یا مصالح مسجد یا مصالح عامہ کے لیے وقف کی ہو اور اس کے اوپر مسجد کی توسیع کی اجازت بھی دی ہو اور قانونی طور پر ان کو وقف کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو تو اس صورت میں نہر کے اوپر کا حصہ بھی مسجد شرعی شمار ہو گا اگر چہ اس کے نیچے نہر بہ رہاہو، تاہم اگر متعلقہ ادارہ نے اس نہر پر مسجد کی توسیع کی اجازت نہ دی ہو یا اجازت تو دی ہو ، لیکن نہر کی زمین مسجد ، مصالح مسجد یا مصالح عامہ کے لیے وقف نہ کی ہو یا انہیں وقف کرنے کا اختیار نہ ہو تو اس صورت میں نہر کے اوپر کا حصہ مسجد شرعی شمار نہ ہو گا، لہذا معتکف دورانِ اعتکاف وہاں نہیں جاسکتا کیونکہ احکامِ مسجد اس حصہ پر جاری نہیں ہوں گے ۔ نیز سرکاری زمین جس ادارے کے زیرِ انتظام ہے اس ادارہ کے بااختیار افسران سے اسے خریدنا یا وقف کرانا تب جائز ہوگا جب بیچنے یا وقف کرنے کا اختیار ان کے پاس ہو۔
أرض وقف على مسجد والأرض بجنب ذلك المسجد وأرادوا أن يزيدوا في المسجد شيئا من الأرض جاز لكن يرفعوا الأمر إلى القاضي ليأذن لهم، ومستغل الوقف كالدار، والحانوت على هذا، كذا في الخلاصة .....وفي الأجناس وفي نوادر هشام قال: سألت محمد بن الحسن عن نهر قرية كثيرة الأهل لا يحصى عددهم وهو نهر قناة أو نهر واد لهم خاصة، وأراد قوم أن يعمروا بعض هذا النهر ويبنوا عليه مسجدا ولا يضر ذلك بالنهر ولا يتعرض لهم أحد من أهل النهر قال محمد - رحمه الله تعالى: يسعهم أن يبنوا ذلك المسجد للعامة أو المحلة، كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية، كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد، وما يتعلق به، ج:2، ص:408)
(وإذا جعل تحته سردابا لمصالحه) أي المسجد (جاز) كمسجد القدس (ولو جعل لغيرها أو) جعل (فوقه بيتا وجعل باب المسجد إلى طريق وعزله عن ملكه لا) يكون مسجدا. قال في البحر: وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى: ﴿وأن المساجد الله﴾ [الجن: 18]- بخلاف ما إذا كان السرداب والعلو موقوفا لمصالح المسجد، فهو كسرداب بيت المقدس هذا هو ظاهر الرواية وهناك روايات ضعيفة مذكورة في الهداية. (الدرالمختار مع ردالمحتار، كتاب الوقف، مطلب:في أحكام المسجد، ج:6، ص:547)
قول المصنف لمصالحه (ليس بقيد بل الحكم كذالك،إذا كان ينتفع به عامة المسلمين علي ما أفاده في غاية البيان حيث قال: أورد الفقيه أبو الليث سوالا و جوابا فقال: فإن قيل أليس مسجد بيت المقدس تحته مجتمع الماء، والناس ينتفعون به قيل إذا كان تحته شئ ينتفع به عامة المسلمين يجوز،لأنه إذا ينتفع به عامتهم صار ذالك لله تعالى أيضا. ومنه يعلم حكم كثير من مساجد مصر التي تحتها صهاريج ونحوها. (تقريرات الرافعي على ردالمحتار، کتاب الوقف، ج:14، ص:461)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں