بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

"طلاق درکومہ، درکومہ، درکومہ" کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

 میری بیوی تھوڑی وہمی ہے جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر مجھے پریشان کرتی رہتی ہے۔ ایک روز شام کو میں گھر پہنچا تو اس نے مجھے تنگ کرنا شروع کیا اور اتنا پریشان کیا کہ سونے  نہیں دیا، کہنے لگی کہ تم بعد میں بدل جاؤ گے میں نے قسم کھا کر کہا کہ میں نہیں بدلوں گا لیکن وہ بار بار یہ بات دہراتی رہی اور کہنے لگی کہ بعد میں بدلنا ہی ہے تو ابھی سے مجھے بتا دو اور مجھے میرے ابو کے گھر چھوڑ آؤ۔ المختصر یہ کہ وہ رات بھر مجھے تنگ کرتی رہی جس پر آخر میں میں نے اس سے یہ کہا "طلاق درکوما، درکوما، درکوما" یہ کہنے کے بعد میں خاموش رہا۔ سوال یہ ہے کہ مذکورہ الفاظ "طلاق درکومہ، درکومہ، درکومہ" کے صحیح معنی کیا ہیں وضاحت فرمائیں کہ مذکورہ صورت میں سائل کی بیوی پر طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

               جب شوہربیوی کومخاطب کرکےاسے طلاق کے صریح الفاظ کہہ دے اور یہ الفاظ ماضی یا حال پر دلالت کرنے والے ہوں تو ان سے طلاق واقع ہو جاتی ہے چاہے شوہر کی نیت طلاق کی ہو یا نہ ہو لیکن اگر طلاق کے صریح الفاظ نہ بولے جائیں بلکہ کنائی الفاظ بولے جائیں تو ان سے طلاق تب واقع ہو گی جب طلاق کی نیت ہو یا دلالت حال سے یہ معلوم ہو رہا ہو کہ شوہر نے یہ لفظ طلاق کی نیت سے استعمال کیا ہے۔

             صورت مسؤلہ میں شوہر نے بیوی سے یہ الفاظ کہے ہیں کہ "طلاق درکومہ، درکومہ، درکومہ"تو ان الفاظ میں "طلاق درکومہ"(طلاق دیتاہوں) یہ طلاق کا صریح لفظ ہے جس سے ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے جب کہ درکومہ درکومہ تاکید کے الفاظ ہیں اس لیے اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ طلاق رجعی کے بعد شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق حاصل ہوتا ہے اور اگر عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو پھر دوبارہ نکاح کرکے رشتہ ازدواج استوار کر سکتے ہیں۔

 

(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح ۔ ۔ ۔ (واحدة رجعية، وإن نوى خلافها أو لم ينو شيئا)۔ (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الطلاق، باب الصريح، ج:4، ص:457)

وإذا طلقها واحدة في الطهر أو في الحيض أو بعد الجماع فهو يملك الرجعة مادام في العدة لأن النبي - صلى الله عليه وسلم - «طلق سودة - رضي الله تعالى عنها - بقوله اعتدي ثم راجعها» ۔ ۔ ۔ فإذا انقضت العدة قبل الرجعة فقد بطل حق الرجعة وبانت المرأة منه، وهو خاطب من الخطاب يتزوجها برضاها إن اتفقا على ذلك. (المبسوط للسرخسي، كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:6، ص:19)


فتویٰ نمبر : 6505/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں