بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

سرکاری نوکری حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا


سوال

 ایک شخص کا سرکاری نوکری حاصل کرنے کے لیے میرٹ لسٹ میں نام آیا ،پھر انٹرویو بھی دیا  اس کے بعد اس سےپیسوں کا مطالبہ کیا گیا  ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح سرکاری نوکری حاصل کرنے کے لیے  پیسے  دینا کیسا ہے؟

جواب

                شریعت مطہرہ میں رشوت لینا اور دینا دونوں حرام ہے ، اس لئے اگر کوئی غیر اہل شخص کسی نوکری کے حصول کے لیے  کسی کو کچھ مال یا مطلوبہ چیز دیتا ہے ، اور اس مال کے ذریعے دوسروں کی حق تلفی کر تا ہے تو یہ رشوت ہے اور اس کا دینےاور لینے والا دونوں گناہ گار ہوں گے ، البتہ جہاں  کہیں  کسی مستحق کو  اس کا  حق بغیر رشوت دینے نہ ملتا ہو تو اس کے لیے اپنے حق  کی خاطر رشوت دینے کی گنجائش ہے،لیکن رشوت لینے والے کے لیےبہر صورت رشوت لینا حرام ہے۔

                  صورت مسؤلہ میں  مذکورہ شخص کا سرکاری نوکری حاصل کرنے کے لیے میرٹ لسٹ میں نام آنے کے بعدصرف انٹرویو دینے سے اس  عہدے کا حقدار یقینی طور پر نہیں بنتا ۔ اس لیے رشوت دینا بہرحال ناجائز ہےاور رشوت دینے سے گنہگار بھی ہوگا۔

 

ومنها إذا دفع الرشوة خوفا على نفسه أو ماله فهو حرام على الآخذ غير حرام على الدافع، وكذا إذا طمع في ماله فرشاه ببعض المال ومنها إذا دفع الرشوة ليسوي أمره عند السلطان حل له الدفع ولا يحل للآخذ أن يأخذ۔(البحرالرائق، أخذ القضاء بالرشوة،ج:6،ص:285)

دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع ۔(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الحظر والإباحة،ج:9،ص:607)


فتویٰ نمبر : 5138/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں