بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

کےجی ایپ کےذریعے پیسے کمانا


سوال

آج کل ایک موبائل ایپ آیا ہے جس کا نام کے جی ایپ ہے ۔ جس میں ائی ڈی بنانے سے کچھ رقم ایزی پیسہ کے ذریعے ملتی ہے اور پھر اس میں پیسے جمع کرنے سے روز کچھ ٹاسک ملتے ہیں ٹاسک یہ ہوتا ہے کہ کسی فیسبوک کی ویڈیو کو لائک کرنا ہوتا ہے یا دیکھ کے سکرین شاٹ نکال کے بھیجنا پڑتا ہے ہر ایک ٹاسک پرپیسے ملتے ہیں۔ اور جو رقم پہلے سے صارف نے جمع کی ہے وہ پڑے رہتے ہیں لیکن ایپ ختم کرنے کی صورت میں وہ جمع کی گئی رقم واپس نہیں ہوتی۔۔۔۔ تو کیا اس ایپ سے پیسے کمانا جائز ہے یا ناجائزہے؟

جواب

             کے جی ایپ کا جو طریقہ بتایا گیا ہےاس میں قمار (جوا)پایا جاتاہےکیونکہ اس ایپ کے ذریعےپیسے تب ملتے ہیں جب صارف ائی ڈی بنانے کے بعد کسی فیسبوک کی ویڈیو کو لائک کرےیا دیکھ کرسکرین شاٹ نکال کرشئیر کرے ورنہ ممبر کواپنے پیسے بھی نہیں ملیں گےیعنی اس بات کا خطرہ ہوتا ہےکہ یا تو اصل سرمایہ سے بھی ہاتھ دھوئے گا یا ان پیسوں سے زیادہ آئیں گے۔لہذا اس ایپ کے ذریعے پیسے کمانا جائز نہیں۔

 

قال الله تعالى: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدة:90)

لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص۔(ردالمحتار،كتاب الحظروالاباحة،فصل في البيع،ج:6،ص:403)


فتویٰ نمبر : 3141/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں