بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

گری پڑی چیز اٹھانے کے بعدتشہیر کی حد


سوال

راستے میں  اگر کسی شخص کو کوئی چیز مل جائے  تو اسے مالک تک پہنچانے  کی غرض سے اٹھانے کا کیا حکم ہے اور وہ شخص کس وقت تک اس چیز کی تشہیر کرے گا ؟

جواب

                شرعی نقطہ نظر سے  راستے میں گری پڑی چیز کو  لقطہ کہا جاتا ہے لہذا لقطہ ضائع ہونے کے خوف کی صورت میں اٹھا نا واجب ہے اور اگر ضائع ہونے کا خوف نہ ہوتو پھر اٹھانااگر چہ واجب نہیں لیکن بہتر ہے ۔

                 لقطہ کی نوعیت کو دیکھ کر اس کی تشہیر کی جائے  گی ،چنانچہ  اگروہ چیز جلد خراب ہونے والی ہو ، جیسے پھل،سبزی  وغیرہ تو اسے اتنے وقت تک نہ رکھا جائے کہ  خراب ہو جائے اور اگر خراب ہونے والی  چیز نہ ہوتو پھر اس وقت تک  رکھا جائے جب تک غالب گمان یہ ہو کہ مالک اس کو تلاش کرے گا اور جب  یہ غالب گمان  ہو جائے کہ اب مالک اس کو تلاش نہیں کرے گا تو اگر یہ شخص فقیر ہوتو خود استعمال کرسکتا ہے  اورا گرغنی ہوتو اس  چیز کو غر با پر صدقہ کرے۔

 

هي مال يوجد في الطريق ولا يعرف له مالك بعينه، كذا في الكافي التقاط اللقطة على نوعين: نوع من ذلك يفترض وهو ما إذا خاف ضياعها، ونوع من ذلك لا يفترض وهو ما إذا لم يخف ضياعها ولكن يباح أخذها أجمع عليه العلماء ۔ ۔ ۔ ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق، والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعدذلك هو الصحيح ۔ ۔ ۔ إن كان الملتقط محتاجا فله أن يصرف اللقطة إلى نفسه بعد التعريف،كذا في المحيط، وإن كان الملتقط غنيا لا يصرفها إلى نفسه بل يتصدق على أجنبي أو أبويه أو ولده أو زوجته إذا كانوا فقراء (الفتاوی الهندية،کتاب اللقطة،ج2،ص299،300)


فتویٰ نمبر : 5136/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں