بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے صحن میں کنواں کھودنا


سوال

مسجد کے صحن میں گاؤں والوں کے لیے واٹر سپلائی کھود  سکتے ہیں؟

جواب

             واضح رہے کہ جو  جگہ مسجد کے لیے وقف کر دی جائے اور اس میں کم از کم ایک مرتبہ نماز باجماعت ادا ہو جائے تو وہ جگہ مسجد شرعی بن جاتی ہےاور مسجد شرعی حقیقت میں تحت الثری سے لے کر اوج ثریا تک مسجد ہوتی ہے،اس لیے مسجد شرعی بننے کے بعد اس کے  کسی بھی حصہ کو چاہے صحن ہو یا ہال  مسجد کے علاوہ دوسرے مقاصد کے طور پر استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں۔

              لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق جب مسجد پہلے سے بنی ہوئی ہے تو اب مسجد کے صحن میں گاؤں والوں کے لیے واٹر سپلائی کھودنا  شرعا جائز نہیں۔

 

قال في البحر: وحاصله أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله}(الجن:18)(رد المحتارعلی الدرالمحتار،كتاب الوقف،مطلب في احكام المسجد ج:6، ص:358)

قيم المسجد لا يجوز له أن يبني حوانيت في حد المسجد أو في فنائه؛ لأن المسجد إذا جعل حانوتا ومسكنا تسقط حرمته وهذا لا يجوز، والفناء تبع المسجد فيكون حكمه حكم المسجد، كذا في محيط السرخسي۔(الفتاوی الهندية،كتاب الوقف،الباب الحادي عشرفي المسجد،ج:2،ص:462)

(قوله: لا عكسه) يعني لا يجوز أن يتخذ المسجد طريقا ۔۔۔ وإن أراد أهل المحلة أن يجعلوا شيئا من المسجد طريقا للمسلمين فقد قيل ليس لهم ذلك وأنه صحيح ۔(رد المحتارعلی الدرالمحتار، كتاب الوقف،مطلب في جعل شيءمن المسجد طريقا،ج:6،ص:576)


فتویٰ نمبر : 5134/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں