بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 15/08/2026 |
دارالافتاء
محتال علیہ کے مرنے کی صورت میں محیل سےدین کا مطالبہ کرنا
سوال
زید خالد کا مدیون تھا،زید اور عمرو نے اتفاق سے یہ طے کیا کہ عمرو دین ادا کرےگا اور خالد اس پر آمادہ ہوگیا،اس اثناء میں ایک پیسہ بھی عمرو نے خالد کو ادا نہیں کیا کہ عمرو کا انتقال ہوگیا اور اسکے ترکے میں بھی اتنی میراث نہیں کہ اس سے دین ادا ہوسکے ، کیا اس صورت میں خالد دوبارہ اپنے دین کی وصولی کیلئے زید پر رجوع کا حق رکھتا ہے یا نہیں؟
جواب
قرض کو ایک شخص کی ذمہ سے دوسرے کی ذمہ داری کی طرف منتقل کرنا حوالہ کہلاتا ہے ۔ حوالہ کا حکم یہ ہے کہ حوالہ کے بعد دائن کواختیارنہیں رہتا کہ اصل مدیون سے اپنے دَین کامطالبہ کرے، ہاں اگر محتال علیہ(جس کی طرف حوالہ کیا ہے) حوالہ سے مکرجائے اور قسم کھالے اور محیل ومحتال (قرض خواہ اور مقروض) کسی کے پاس گواہ نہ ہوں یامحتال علیہ مفلس مرجائے کہ جائیداد یامال نقد یاقرض نہ چھوڑے، نہ کوئی اس کی طرف سے ضامن ہو ، اس صورت میں حوالہ باطل ہوکر دَین پھر اصل مدیون پرلوٹتا ہے۔
لہذا صورتِ مسؤلہ کے مطابق اگر واقعی جس نے حوالہ قبول کیا تھا یعنی عمرو اس کےمرنے کے بعد اس کے ترکہ میں اتنا مال نہ ہو کہ اس سے دَین ادا ہوسکے تو اس صورت میں خالد اپنے دَین کی وصولی کے لئے زید پر رجوع کر سکتا ہے۔
الحوالة:(هي) لغة: النقل، وشرعا: (نقل الدين من ذمة المحيل إلى ذمة المحتال عليه)۔الدر المختار، كتاب الحوالة، ج:1، ص:461)
لم يرجع المحتال على المحيل إلا أن يتوى حقه فإذا توى عليه عاد الدين إلى ذمة المحيل والتوى عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أحد الأمرين إما أن يجحد المحتال عليه الحوالة ويحلف ولا بينة للمحيل ولا للمحتال له أو يموت مفلسا بأن لم يترك مالا عينا ولا دينا ولا كفيلا كذا في التبيين۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الحوالة، الباب الأول في تعريف الحوالة، ج:3، ص:296)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 313
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 854
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 432
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 109
- کتاب النکاح | فتاوئ : 547
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 472
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 459
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 97
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 72
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 170
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 382
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 314
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1152
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 373
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں