بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سکالرشپ کی بقیہ رقم کاحکم


سوال

میں پشاور یونیورسٹی میں پی۔ایچ۔ڈی کا اسٹوڈنٹ ہوں ۔ حکومت پاکستان کی طرف سے ہر سال تقریباً 400 تک طلبہ مختلف یونیورسٹیوں سے دنیا کے بہترین درسگاہوں میں اپنی بقایا ریسرچ کےلیے سکالرشپ پر بھیجے جاتے ہیں۔سکالرشپ میں منتخب ہونے کے لیے ہم اپنا بقایہ ریسرچ  کا کام اُن کے سامنے رکھتے ہیں۔ جس کام میں ہمارے لیے پاکستان میں ریسرچ کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد پر ہم منتخب ہوتے ہیں۔منتخب ہونے کی بعد ایک پروگرام ہوتا ہے جس میں ایچ ای سی والے صاف کہتے ہیں کے آپ لوگ پڑھنے کے ساتھ وہاں گھومے پھرے بھی تاکہ ثقافت کا تبادلہ بھی ہو۔ میں چونکہ اپنے کام کی بنیاد پر منتخب ہوا ہوں ۔ میرا کام یہاں پر مکمل نہیں ہوا۔تقریبا 50 فیصد کام ہوا ہے ۔اس میں میری بھی کمزوری ہے اور یہاں پر کچھ سہولیات نہ ہونے کا بھی مسئلہ تھا۔ واپس پاکستان جاکے میں ایچ ای سی والوں سے سچ سچ بولوں گا اور اپنے کام کے متعلق  رپورٹ جمع کرواؤں گا،اکثر سٹوڈنٹس رپورٹ جمع نہیں کرواتے۔ ہمیں یک مشت چھ 6 مہینوں کےلئے سکالرشپ ملتی ہے اسی میں یہ وقت گزارنا ہوتا ہے۔ سٹوڈنٹس اپنا کام کرکے اور وقت گزار کر جتنی بھی ان پیسوں میں بچت کرتے ہیں تو ایچ ای سی والے پیسے واپس  نہیں مانگتے،کیونکہ ایچ ای سی والے اتنی تحقیق نہیں  کرتے تو کیا وہ پیسے جو میں نے بچت کیے ہیں میری لیے حلال ہوں گے؟ کیونکہ اکثر سٹوڈنٹس یہاں آکراپنا کام پورا کرکے نہیں جاتے۔ میرا سوال یہ ہے کہ سچھی  رپورٹ جمع کروانے کے بعد بھی اگر انہوں نے مجھ سے بقایا پیسے نہیں مانگے جو میں نے یہاں بچت کی ہیں تو  کیا وہ پیسے میرے لیے حلال ہیں؟  اگرحلال نہیں اور ایچ ای سی والے بھی واپس نہ مانگے تو پھر ان پیسوں کا کیا کیا جائے؟     

جواب

              واضح رہے کہ حکومت کی طرف سےطلبہ کو سکالر شپ  کے نام سے میں ملنے والی رقم عطیہ اور تبرع  ہوتی ہے۔

            لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق جب حکومت کی طرف سےطلبہ کو ریسرچ مکمل کرنے کے لیے دوسرے ممالک سکالرشپ پر بھیجا جاتاہے اور یک مشت 6 مہینوں کے لیے سکالر شپ ادا کر دی جاتی ہے تو  اگر حکومت  کی طرف سے مذکورہ سکالر شپ کی بقیہ رقم کی واپسی کا کوئی مطالبہ نہ کیا گیا ہوتو ایسی رقم کو  اپنے استعمال میں لانا جائز ہے ؛کیونکہ یہ رقم حکومت کی طرف سے تبرع اور عطیہ ہے ۔

 

كتاب الهبة وجه المناسبة ظاهر (هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال.وشرعا:(تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه۔(الدر المختار على صدرردالمحتار،كتاب الهبة،ج:6،ص:24)

وأما شرائط الرجوع بعد ثبوت الحق حتى لا يصح بدون القضاء والرضا لأن الرجوع فسخ العقد بعد تمامه۔(بدائع الصنائع،كتاب الهبة،فصل في حكم الهبة،ج:8،ص:122)


فتویٰ نمبر : 5142/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں