بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

امام کی تنخواہ پندرہ ہزار روپے سے کم ہونے کی صورت میں اس کی اقتدا میں نماز


سوال

میں نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ سنا جس میں ایک عالم دین فرما رہے تھے کہ جس مسجد کے نمازی اپنے امام کو ماہانہ پندرہ ہزار روپے سے کم تنخواہ دیں تو ان مقتدیوں کی نماز اس امام کے پیچھے جائز نہیں۔ کیا یہ درست ہے؟

جواب

           امام کی تنخواہ اتنی ہونی چاہیے کہ جس سے اُس کی ضروریات تنگی اور محتاجی کے بغیر پوری ہوجائیں اور اس کو یکسوئی حاصل رہے، علاقے کی نوعیت کے اعتبار سے اس کی مقدار مختلف ہوسکتی ہے اورتنخواہ کے نظم کی ذمہ داری جس طرح مسجد کمیٹی کی ہے، اسی طرح نمازیوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ تنخواہ کے اخراجات کے لیے حسب وسعت تعاون کریں۔

            صورت مسؤلہ میں یہ بات درست نہیں کہ پندرہ ہزار تنخواہ سے کم تنخواہ والے امام کے پیچھے مقتدیوں کی نماز جائز نہیں نماز بہرحال درست ہے تاہم امام مسجد کی ضروریات کے لحاظ سے مناسب مقدار میں تنخواہ مقرر کرنی چاہیے۔

 

ويعطي بقدر الحاجة والفقه والفضل فإن قصر كان الله عليه حسيبا زيلعي ۔ ۔ ۔ (قوله ويعطي بقدر الحاجة إلخ) الذي في الزيلعي هكذا، ويجب على الإمام أن يتقي الله تعالى ويصرف إلى كل مستحق قدر حاجته من غير زيادة فإن قصر في ذلك كان الله تعالى عليه حسيبا. اهـ. وفي البحر عن القنية: كان أبو بكر - رضي الله تعالى عنه - يسوي في العطاء من بيت المال، وكان عمر - رضي الله تعالى عنه - يعطيهم على قدر الحاجة والفقه والفضل، والأخذ بهذا في زماننا أحسن فتعتبر الأمور الثلاثة اهـ أي فله أن يعطي الأحوج أكثر من غير الأحوج، وكذا الأفقه والأفضل أكثر من غيرهما وظاهره أنه لا تراعى الحاجة في الأفقه والأفضل، وإلا فلا فائدة في ذكرهما، ويؤيده أن عمر - رضي الله تعالى عنه - كان يعطي من كان له زيادة فضيلة، من علم، أو نسب أو نحوه ذلك أكثر من غيره، وفي البحر أيضا عن المحيط والرأي إلى الإمام من تفضيل وتسوية من غير أن يميل في ذلك إلى هوى، وفيه عن القنية وللإمام الخيار في المنع والإعطاء في الحكم۔ ( الدرالمختار على صدر ردالمحتار، كتاب الجهاد، مطلب في مصارف بيت المال، ج:6، ص:352)


فتویٰ نمبر : 9286/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں