بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 20/10/2026 |
دارالافتاء
بلا شرعی وجہ کسی مسلمان کےلیے بدد عا کرنا
سوال
آج کل یہ رواج پڑا ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعدلوگ آتے ہیں اور پیسوں(تین،چار ہزار)،کپڑوں اورسوناچاندی وغیرہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ہم بخوشی کچھ رقم وغیرہ دیتے ہیں مگر وہ زیادہ کا مطالبہ کرتے ہیں اور نہ دینے کی صورت میں بد دعا دیتے ہیں۔کیا ایسی صورت میں ان لوگوں کی بد دعا قبول ہوگی؟
جواب
کسی مسلمان کے لیے بددعا کرنا جائز نہیں ہے۔حضورﷺ کا ارشاد ہے: ہمیشہ بندے کی دعا قبول ہوتی ہے،جبکہ وہ گناہ یا رشتہ کاٹنے کی دعا نہ کرے۔اس حدیثِ پاک کے تحت ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:’’ ومنه الدعاء على من لم يظلمه مطلقا ‘‘ترجمہ:(جو دعائیں قبول نہیں ہوتیں)ان میں سے ایک اس شخص کے لیے بد دعا کرنا ہے کہ جس نے اس پر کوئی ظلم نہیں کیا۔نیز جس شخص کے پاس ایک دن کا کھانا ہو اور ستر ڈھانپنے کے لیے کپڑا ہو اس کے لیے لوگوں سےسوال کرناجائز نہیں،اسی طرح جو آدمی کمانے پر قادر ہو اس کے لیےبھی لوگوں سے سوال کرنا جائز نہیں ۔
صورتِ مسئولہ کے مطابق نہ تو کسی سے خوشی کے موقع پر سوال جائز ہےاور نہ ہی بددعا کرنے کی اجازت ہےاور اللہ تعالیٰ کے رحم سے امید ہےکہ وہ ایسی بد دعا قبول نہیں فرمائیں گے۔
لایزال یستجاب للعبد ما لم يدع باثم او قطيعة رحم (الصحیح لمسلم،کتاب الذکر والدعاء،باب بیان انہ یستجاب للداعی ما لم یعجل،ج:2،ص:352)
ومنه الدعاء على من لم يظلمه مطلقا (مرقاۃ المفاتیح ،جلد4،ص:1525)
ولا یحل ان یسال شیئا من القوت من لہ قوت یومہ بالفعل او بالقوۃکالصحیح المکتسب ویاثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم ولو سال للکسوۃ او لاشتغالہ عن الکسب بالجھاد او طلب العلم جاز لومحتاجا (الدر المختار مع رد المحتار ،ج:2،ص:354تا355)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں