بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 23/10/2026 |
دارالافتاء
نماز میں تعوذ اور تسمیہ کا حکم
سوال
ایک کیسٹ میں یہ بیان سنا ہے کہ ایک مولانا صاحب فرما رہے تھے کہ نماز کی ہر رکعت میں تعوذ اور تسمیہ پڑھنا واجب ہے جب ان سے کہا گیا کہ ہم تو صرف پہلی رکعت میں تعوذ اور تسمیہ پڑھتے ہیں اس کے بعد ہر رکعت میں صرف تسمیہ پڑھتے ہیں تو مولانا صاحب نے ان سے کہا کہ اس لیے تو آپ خوار ہیں کہ واجب چھوڑتے ہیں، ہر رکعت میں تعوذ اور تسمیہ پڑھا کریں۔ پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ کیا تعوذ اور تسمیہ ہر رکعت میں پڑھنا واجب ہے اور اگر واجب ہے تو اس کے چھوڑنے پر سجدہ سہو لازم ہوگا؟
جواب
نماز ميں تعوذ اور تسمیہ کے حکم کے بارے میں ائمہ اربعہ کا آپس میں اختلاف ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک تعوذ اور تسمیہ پڑھنا نماز میں مکروہ ہے، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں(تعوذ اور تسمیہ) نماز کی ہر رکعت میں سنت ہیں جب کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تعوذ ہر رکعت میں سنت اور تسمیہ ہر رکعت میں فرض ہے کیونکہ ان کے نزدیک تسمیہ سورہ فاتحہ کا جزء ہے تو جو حکم نماز میں سورہ فاتحہ کا ہوگا وہی تسمیہ کا بھی ہوگا۔
احناف کے نزدیک نماز کی پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے، ثناء كے بعد تعوذ پڑھنا سنت ہے اور تمام رکعتوں میں سورہ فاتحہ سے پہلے صرف تسمیہ پڑھنا سنت ہے۔ اگرچہ تبیین الحقائق میں ہے کہ تسمیہ کے ترک سے سجدہ سہو لازم آتا ہے لیکن باقی فقہاء احناف کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ تسمیہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے سنت ہے اور سنت کے ترک سے نہ تو نماز میں کوئی فساد آتا ہےاور نہ سجدہ سہو لازم ہوتا ہے البتہ جان بوجھ کر سنت کو چھوڑنا درست نہیں اس سے انسان گنہگار ہوتا ہے اور نماز کی قدر و قیمت میں بھی کمی ہو جاتی ہے۔
فالتعوذ سنة في الصلاة عند عامة العلماء ۔ ۔ ۔ وروي أن «أبا الدرداء قام ليصلي فقال له النبي - صلى الله عليه وسلم -: تعوذ بالله من الشيطان الرجيم ومن شياطين الإنس والجن» ، وكذا الناقلون صلاة رسول الله - صلى الله عليه وسلم - نقلوا تعوذه بعد الثناء قبل القراءة وأما وقت التعوذ فما بعد الفراغ من التسبيح قبل القراءة عند عامة العلماء. (بدائع الصنائع، كتاب الصلاة، فصل فی سنن الصلاة، ج:2، ص:31)
(والركعة الثانية كالأولى) فيما مر (غير أنه لا يأتي بثناء ولا تعوذ فيها) إذ لم يشرعا إلا مرة۔ (الدر المختار على صدر رد المحتار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:2، ص:214)
(وسننها) ترك السنة لا يوجب فسادا ولا سهوا بل إساءة لو عامدا غير مستخف وقالوا الإساءة أدون من الكراهة، ثم هي على ما ذكره ثلاثة وعشرون (رفع اليدين للتحريمة) ۔ ۔ ۔ (والثناء والتعوذ والتسمية والتأمين)۔ (الدر المختار على صدر ردالمحتار، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:2، ص:170)
ومنها البسملة فإذا تركها يجب عليه سجود السهو وقيل: لا يجب۔ (تبيين الحقائق، كتاب الصلاة، باب سجود السهو، ج:2، ص:31)
التعوذ أو الاستعاذة قبل القراءة في الصلاة: قال المالكية: يكره التعوذ والبسملة قبل الفاتحه والسورة، لحديث أنس السابق ((أن النبيﷺ وأبا بكر و عمر كانوا يفتتحون الصلاة بالحمد لله رب العالمين))۔
وقال الحنفية: يتعوذ في الركعة الأولى فقط۔
وقال الشافعية والحنابلة: يسن التعوذ سرا في أول كل ركعة قبل القراءة بأن يقول: (أعوذ بالله من الشيطان الرجيم) ۔ ۔ ۔ ثم يقول: (بسم الله من الشيطن الرجيم) سرا عند الحنفية والحنابلة، وجهرا في الجهرية عند الشافعية كما قدمنا۔ (الفقه الإسلامي وأدلته،كتاب الصلاة ج:2، ص:878)
التسمية في الصلاة ۔ ۔ ۔ وهي سنة عند الحنفية، والحنابلة، أما الشافعية فيقولون: إنها فرض۔ (كتاب الفقة على المذاهب الأربعة، كتاب الصلاة، ج:1، ص:230)
قال الشافعي رحمه الله في الأم: أكره له ترك التعوذ عمدا؛ فإن تركه عمدا أو سهوا فليس عليه سجود سهو۔ (المجموع شرح المهذب، كتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:1، ص:292)
ويجب ان يبتدئها ببسم الله الرحمن الرحيم فإنها آية منها والدليل عليه ما روت أم سلمة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم " قرأ بسم الله الرحمن الرحيم فعدها آية "۔ (المجموع شرح المهذب، كتاب الصلاة، باب الصلاة، باب صفة الصلاة، ج:4، ص:301)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں