بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 27/07/2026

دارالافتاء

 

قبل از تقسیم وارث کا اپنا حصہ عطیہ کرنے کا اقرار کرنا


سوال

اگرکوئی وارث اپنے حصہ میراث کے عطیہ کا إقرار کسی کے لیے کرتا ہو اور إقرار نامہ  تحریراً بھی لکھا ہوا ہو تو کیا قبل از تقسیم کسی وارث کا اس طرح عطیہ کرنا معتبر ہے ؟ نیز جن کو عطیہ کیا ہو ان کا اپنے نام رجسٹری کروالینے کا کیا حکم ہے؟ 

جواب

         شریعت مطہرہ کی رو سے کسی چیز کو  ہبہ یعنی عطیہ  کرنے کے لیے ضروری ہے  کہ اگر وہ چیز قابلِ تقسیم ہو تو اس کی تقسیم ہو چکی ہو اور اس کو قبضہ کر کے آگے ہبہ   کیا گیا ہو اور  جس کو ہبہ کیا گیا ہےاس نے اس پر قبضہ کر لیا ہو۔

            صورتِ مسئولہ میں  وارث کا اپنا حصہ قبل از تقسیم، ہبہ کرنے کا اقرار شرعاً معتبر نہیں کیونکہ قبل از تقسیم عطیہ کا اعتبار نہیں  ہوتا۔ اسی لیے اس عطیہ کے بعد  موہوب لہ کا اپنے نام رجسٹری کروانے کا  بھی اعتبار نہیں۔

 

(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل. (الدر المختار على صدر رد المحتار، کتاب الهبة، ج:5، ص:690)

قال - رضي الله عنه -: وهبة حصته من العين لوارث أو غيره تصح فيما لا يحتمل القسمة ولا تصح فيما يحتملها، كذا في القنية.(الفتاوٰی الهندية، کتاب الهبة، الباب الرابع في هبة الدين، ج:4، ص:384)

شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول)۔(الدر المختار على صدر رد المحتار، کتاب الهبة، ج:5، ص:688)

ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب. (الفتاوٰی الهندية، كتاب الهبة، الباب الاول، ج:4، ص:374)


فتویٰ نمبر : 5131/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں