بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/08/2026

دارالافتاء

 

آن لائن کاروبار کرنے والے کے لیے متعین اجرت کے ساتھ اضافی منافع لینے کا حکم


سوال

اگر کوئی  شخص آن لائن کپڑے کا کاروبارکرتا  ہے اسکا  طریقہ یہ  ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں بڑی دوکانوں والے کہتے ہیں کہ  ہمارا ایک سوٹ 500 روپے میں بیچ دو اس میں سے 430 روپے ہمارے ہوں گے اور 70 روپے تمہاری اجرت ہوگی اب  وہ شخص سوشل میڈیا پر گاہک ڈھونڈتا ہے اور انہیں ریٹ 600 یا  700 بتاتا ہے  کبھی تو ایک سوٹ 500 سے زائد کا بھی فروخت ہوجاتا ہے  لیکن  زیادہ تر آخری حد 500 تک  ایک سوٹ بیچتا ہے  کیا اس طرح کاروبار کرنا جائز ہے؟  مالک کی طرف سے  500 سے زائد بیچنے کی بھی  اجازت ہوتی ہے   اور وہ کہتا ہے کہ  70 روپے تمہیں اجرت ملنی ہی ہے لیکن زائد منافع  بھی تمہارا ہوگا  تو کیا 500 سے زائد کا سوٹ بیچنا اور 430 روپے اصل مالک کو دینا اور بقیہ منافع خود رکھ لینا  شرعا کیسا ہے؟

جواب

                معاملات اور لین دین کے نمٹانے کے لیے اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کو قائم مقام بنانا   شریعت کی اصطلاح میں  توکیل کہلاتا ہے۔  وکیل کے لیے وکالت پر اجرت لینا شرعا جائز ہے البتہ اس کا  پہلے سے متعین  کرنا ضروری ہے ۔

              صورت مسئولہ  میں آن لائن کپڑے کا کاروبار  کرنے والے شخص کا مارکیٹ میں  بڑے دوکانداروں کے  کپڑے فروخت کر کے متعین اجرت  مثلا 70 روپے لینا جائز ہے ،نیز اگر مالک کی جانب سے اجازت ہو کہ ایک سوٹ 500 روپے سے زائد مثلا 600 یا 700   پر بیچے تو ایسی  صورت میں متعین اجرت کے علاوہ وہ اضافی رقم بھی اس شخص کی ہو گی تو شرعا یہ اضافی رقم   لینا بھی جائز ہے۔

 

عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس: " أنه كان لا يرى بأسا أن يعطي الرجل الرجل الثوب، فيقول: بعه بكذا وكذا، فما ازددت فلك "(مصنف ابن أبي شيبة،باب في الرجل يدفع إلى الرجل الثوب،ج5،ص48)

إذا اشترطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل فيستحقها وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة فيكون متبرعا وليس له المطالبة بالأجرة۔(شرح المجلةلسليم رستم باز،الكتاب الحادي العشرفي الوكالة،الباب الثالث في الاحكام الوكالة،المادة:1468،ص:789)

إذا أخذ الوكيل الأجرة لإقامة الوكالة فإنه غير ممنوع شرعا، إذ الوكالة عقد جائز لا يجب على الوكيل إقامتها فيجوز أخذ الأجرة فيها۔(فتح القدير،كتاب الوكالة،ج2،ص7)


فتویٰ نمبر : 3170/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں