بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

سودی بينكوں كے ساتھ معاملات کرنے والی کمپنی میں ملازمت کرنا


سوال

اگر کوئی شخص کنسٹرکشن کا کام ایسی کمپنی کے ساتھ کرتا ہو  جو حکومت سے ٹھیکہ لیتی ہو اور  اس ٹھیکہ کی تمام تر ادائیگیاں اور وصولیاں سودی بینکوں کے ذریعہ سے ہو۔ تو کیا ایسی کمپنی کے ساتھ اس شخص کا  بطورِ سول انجنئیر کنسٹرکشن کا  کام کرنا جائزہوگا؟  نیز ایسی کمپنی بنانا جس کا کام  حکومت سے کنسٹرکشن کا ٹھیکہ لینا ہو اور پھر  ٹھیکہ لینے کے بعد  تمام تر  ادائیگیاں اور وصولیاں سودی بینکوں کے ذریعہ سے ہو۔ تو کیا ایسی کمپنی بنا کر ٹھیکہ لینا جائز ہوگا؟

جواب

               کسی اِدارے میں ملازمت کے جائز یا ناجائز ہونے کا مدار اِس بات پر ہے کہ وہ کمپنی اپنے ملازم سے کیا کام لیتی ہے اور اِس ادارے کے اغراض و مقاصد کیا ہیں۔ اگر وہ اپنے ملازم سے خلافِ شریعت کام کرواتی ہے یا اِس کے مقاصد و اہداف غیر شرعی ہیں تو ایسے اِدارے میں ملازمت جائز نہیں ، البتہ اگر ملازم سے کوئی خلافِ شریعت کام نہیں لیا جاتا اور مقاصد بھی غیر شرعی نہیں ہیں تو ایسے اِدارے میں ملازمت کرنا جائز ہے۔ نیز ٹھیکہ داری  بذاتِ خود  کوئی ناجائز کام نہیں البتہ اس میں شریعت کے اصول و احکام کی رعایت ضروری ہے۔

              صورتِ مسئولہ میں سائل کا بطورِ سول انجنئیر ٹھیکہ لینے والی کمپنی کے ساتھ کام کرنا جائز ہے۔ نیز ٹھیکہ داری کا کام فی نفسہِ جائز ہے چاہے ٹھیکہ حکومت ہی سے کیوں نہ لیا جائےتاہم  اس سے متعلق شرعی احکام معلوم کر کے ان پر عمل کرنا لازم ہے۔  یہ بھی واضح رہے کہ  صرف  ادائیگیاں اور وصولیاںسودی بینکوں کے ذریعے سے کرنے کی گنجائش ہےبشرطیکہ  براہِ راست سود میں مبتلا ہونا نہ پڑے۔

  

قال الله تعالى: أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا. (البقرة:275)

وَلا تَعاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوانِ يعنى لا تعاونوا على ارتكاب المنهيات ولا على الظلم لتشفى صدوركم بالانتقام. عن النواس بن سمعان الأنصاري قال سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البر والإثم قال البر حسن الخلق والإثم ما حاك فى نفسك وكرهت ان يطلع عليه الناس۔ (التفسير المظهري، سورة المائدة آيت:3، ج:3، ص:19)

(ولا يجوز على الغناء والنوح والملاهي) لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجر من غير أن يستحق هو على الأجير شيئا إذ المبادلة لا تكون إلا باستحقاق كل واحد منهما على الآخر، ولو استحق عليه للمعصية لكان ذلك مضافا إلى الشارع من حيث إنه شرع عقدا موجبا للمعصية تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا ولأن الأجير والمستأجر مشتركان في منفعة ذلك في الدنيا فتكون الإجارة واقعة على عمل هو فيه شريك ذكره في النهاية معزيا إلى الذخيرة، وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه وفي المحيط في كتاب الاستحسان إذا أخذ المال من غير شرط يباح۔ (تبیین الحقائق، باب الاجارة الفاسدة، ج:5، ص:125)


فتویٰ نمبر : 3139/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں