بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

غير مسلم سے مال چوری کرنا


سوال

زید ایک یہودی کے پاس نوکر ی کرتا تھا  اس دوران وہ روزانہ اس کے مال سے کچھ چوری کرتا تھا،اب وہ یہودی مرگیا ہے اس کا کوئی وارث زید کو معلوم نہیں ہے  اب وہ چاہتا ہے کہ اس  سے چوری کی ہوئی  چیزوں کی قیمت دے کر اپنا ذمہ فارغ کرے  لہٰذا کوئی  طریقہ بتلا  دے  کہ کل بروز قیامت اس سے وہ یہودی اپنے چوری شدہ مال کا مطالبہ نہ کرے۔

جواب

           واضح رہے کہ مال  حرام  سے جان چھڑانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کو حقیقی مالک  یا اس کے فوت ہونے کی صورت میں  اس کے ورثا کے طرف لوٹائے  البتہ ا گر  اس کا کوئی وارث  معلوم نہ ہو  سکے تو   بلا نیت ثواب  اصل مالک کے طرف سے صدقہ کرے    لیکن اگر مالک  غیر مسلم ہوتواس کا صدقہ   آخرت میں قابل قبول نہیں  ہے اس لیے اگر کسی مسلمان نے  غیر مسلم کا    مال چرایا ہو اور   مالک فوت  ہوا ہو اور  اس کے ورثا معلوم نہ ہوں  تو اس   کی طرف سے صدقہ کرنے سے اس کا ذمہ فارغ نہیں ہوگا  اس لیے     فقہائے کرام کی نزدیک  کسی مسلمان کا غیر مسلم کے ساتھ  ظلم  کرنا مسلمان کے ساتھ ظلم کرنے سے زیادہ اشد ہے  تاہم  ایسے شخص کو چاہیے کہ    مال مسروقہ یا اس کی قیمت کو  فقرا میں بانٹ دے اور اپنے عمل پر استغفار کرتے رہے   ،اللہ کی رحمت سے بعید نہیں کہ اس کے لیے کوئی راستہ نکالے۔

 

''والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام فلا يحل له، وتصدق به بنية صاحبه''. (رد المحتار على الدرالمختار،مطلب فيمن ورث مالاً حراماً،ج:7،ص:301)

في الخانیة من الغصب: مسلم غصب من ذمي مالاً أو سرقہ؛ فإنہ یعاقب علیہ یوم القیامة؛ لأنہ أخذ مالا معصوماً، والذمی لا یرجی منہ العفو بخلاف المسلم فکانت خصومة الذمي أشد ، وعند الخصومة لایعطی ثواب طاعة المسلم للکافر؛ لأنہ لیس من أہل الثواب ولا وجہ لأن یوضع علی المسلم وبال کفر الکافر فیبقی فی خصومتہ وعن ہذا قالوا: إن خصومة الدابة تکون أشد من خصومة الآدمی علی الآدمی (رد المحتار على الدر المختار،كتاب العتق باب الاستيلاد،ج:5،ص:459)


فتویٰ نمبر : 5129/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں