بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

عورتوں کا بالوں میں اسٹیپ کٹنگ کروانا


سوال

کیا عورت کے لیے بالوں میں  اسٹیپ کٹنگ (Step Cutting)  کرانا جائز ہے؟

جواب

              واضح رہے کہ عورتوں کے لیے بال اس طرح کاٹنا کہ کفار و فساق کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہو، جائز نہیں ہے۔

              صورت مسؤلہ میں عورتوں کے لیے بالوں میں اسٹیپ کٹنگ (Step Cutting) کراناجائز نہیں  ہے  جس میں بالوں کو مخصوص ڈیزائن دینے کے لیے مختلف زاویوں سے مختلف لمبائی کے ساتھ کاٹا جاتا ہے کیونکہ  اس میں کفاروفُساق سے مشابہت لازم آتی ہے، اس لیے شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔

 

عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، قال: دخلت على عائشة أنا وأخوها من الرضاعة. فسألها عن غسل النبي صلى الله عليه وسلم من الجنابة؟ فدعت بإناء قدر الصاع فاغتسلت وبيننا وبينها ستر وأفرغت على رأسها ثلاثا قال: وكان أزواج النبي صلى الله عليه وسلم يأخذن من رءوسهن حتى تكون كالوفرة. ( صحيح مسلم،كتاب الحيض، باب القدر المستحب من الماء...، رقم الحديث: 320 ج:1، ص:256)

عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من تشبه بقوم فهو منهم. (سنن أبي داود، كتاب اللباس، باب في لبس الشهرة، رقم الحديث: 4031، ج:1، ص:359)


فتویٰ نمبر : 5141/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں