بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

سٹیٹ لائف انشورنس کے ساتھ ملازمت کرنا


سوال

 ایک شخص سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن  آف پاکستان  کے ساتھ  بطور (sales manager (کے کام کرتا ہے اس میں یہ بیمہ پالیسی بھی  کرتا ہے کیا مذکورہ  کمپنی کے تحت   اس قسم کی نوکری کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

             جمہور علمائے امت کے نزدیک  مروجہ انشورنس کمپنیوں کی پالیسی سود ،قمار اور غرر  جیسے ناجائز عناصر پر مشمل  ہونے  کی وجہ سے حرام  اور ناجائز ہے۔ اس لیے ان کمپنیوں کے تحت نوکری کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ   رسول اللہ صلی اللہ وسلم  کی حدیث مبارکہ میں سود کھانے والے، اس کے کھلانے والے ،اس کا حساب لکھنے والے اور اس معاملہ میں گواہ بننے والے سب کو  گناہ میں شریک  قرار دیا گیا  ہے۔

              سٹیٹ لائف ا نشورنس کارپوریشن آف پاکستان بھی چونکہ  انشورنس کمپنی ہی ہے اس لیے اس کے ساتھ بطور  سیلز مینیجر  ملازمت کرنا    جائز نہیں ہے۔

 

عن جابر قال:لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا،و مؤكله،و كاتبه،وشاهديه وقال هم سواء۔(الصحيح لمسلم،كتاب المساقاة،باب الربا،ج:2،ص:27)

و سمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن أن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه،ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص۔(رد المحتار على الدرالمختار،فصل في البيع،ج:6،ص403)


فتویٰ نمبر : 3130/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں