بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 28/10/2026

دارالافتاء

 

تقسیم کی صورت میں ملنی والی زمین پر شفعہ کا دعوی کرنا


سوال

اگر چند سال پہلے زمین  بطور ميراث بھائیوں کے درمیان تقسیم  ہوئی ہو  اوراس کے بعد ایک بھائی فوت ہوجائے اور زمین اس کے بیٹوں کو ملے تو تو کیا فوت شدہ شخص کا بھائی اپنے بھتیجوں کی  زمین پر شفعہ كا دعوى کر سکتا ہے؟

جواب

             حق شفعہ کے ثبوت کے لیے یہ ضروری ہے کہ جس زمین پر شفیع شفعہ کا دعوی کرتا ہے ،  وہ کسی مالی معاوضہ سے حاصل کی گئی ہو، اگر  مالی معاوضہ سے نہیں بلکہ ہبہ، میراث یا وصیت کے ذریعے زمین کی ملکیت دوسرے کو منتقل ہوتی ہو ،تو اس پرشفعہ کا دعوی کرنا شرعاً جائز نہیں۔

              صورت  مسئولہ میں جن بھتیجوں  کو زمین اپنے والد سے میراث میں ملی تھی اُن کے چچا کا اس زمین میں شفعہ کا دعوی درست نہیں ہے۔

 

(وأمـاشـرائـطـهـا فـأنـواع ) مـنـهـا عـقـد المعاوضة وهو البيع، أوماهو بمعناه، فلاتجب الشفعة بماليس ببيع ، ولا بمعنى البيع، حتى لاتجب بالهبة والصدقة والميراث والوصية. (الفتاوى الهندية، كتاب الشفعة، الباب الأول، ج:5، ص:160)


فتویٰ نمبر : 3146/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں