بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رضاعی بہن کی نسبی بہن سے نکاح کرنا


سوال

عائشہ فاطمہ کی رضاعی ماں ہے اب عائشہ اپنے حقیقی بیٹے زید  کا نکاح  فاطمہ کی  چھوٹی حقیقی بہن خنسا سے کرنا چاہتا ہے تو شریعت کی رو سے  یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

              فقہائے کرام کے نزدیک  کسی شخص  کے لئے  اپنی رضاعی بہن   کی   نسبی بہن  سے نکاح  کرنا  جائز ہے بشرطیکہ ان دونوں کے مابین  حرمت کا کوئی دوسرا سبب موجود نہ ہو ۔لہٰذا صورت مسئولہ میں   زید  کا نکاح  فاطمہ کی  نسبی  بہن خنسا سے  جائز ہے بشرطیکہ     حرمت کا کوئی سبب موجود نہ ہو  ۔

 

وكذالك يتزوج أخت أخته من الرضاع،ومثله من النسب يحل لأنه لا نسب بينهما  موجب للحرمة،فكذالك في الرضاع۔(المبسوط للسرخسي،باب الرضاع،ج:5،ص:137)


فتویٰ نمبر : 6500/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں