بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

سیلاب کی لکڑیوں کو خرید کراستعمال کرنے کا حکم


سوال

چترال ،سوات،کمراٹ اور اسی طرح دیگر دور دراز علاقوں میں جب بارش ہوتی ہے تو سیلاب کا پانی درختوں کی لکڑیوں کو اور بعض لوگوں کی کاٹی ہوئی لکڑیوں (جو سلیپر کی شکل میں تیار کیے ہوتے ہیں)کوبہا کر دور دراز علاقوں  یعنی 60،80 کلومیٹر دور لے جاتے ہیں تو کچھ لوگ ان لکڑیوں کو پکڑ کر اپنے قبضے میں لےلیتے ہیں کبھی تو وہ درخت کی شکل میں ہوتے ہیں اورکبھی کٹے ہوئےدرختوں کی  لوگوں نے تراش خراش بھی کی  ہوتی ہے لیکن دریا کے کنارے ہونے کی وجہ سے دریا  کا پانی اسے بہا کر لے جاتا ہے۔جو لوگ اسی طرح پکڑ کر اپنے قبضے میں لے لیں تو کیا یہ ان کی ملکیت بن جاتی ہے یا نہیں ؟یا یہ آخر تک لقطہ ہی کے حکم میں ہو گا؟  اسی طرح ہمارے گاؤں میں ان لکڑیوں کو ایک شخص نے خریدلیا اور خریدی ہوئی لکڑیوں کو کرایہ کی گاڑی میں لاد  کر دور دراز علاقے تک پہنچایا، وہاں سے بڑی گاڑی میں لاد کر اپنے گاؤں پہنچا دیا ااور چونکہ یہ دیا رکی قیمتی لکڑیاں ہیں جن کو پشتوں میں رنزڑہ کہتے ہیں جو قریبی علاقوں میں دستیاب بھی نہیں ہوتی ہے تو ایسی لکڑیوں کو مسجد کی تعمیر کے ارادہ سے خریدا ہے تو کیا اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں ؟یا اول تا آخر لقطہ ہی کا حکم ہے؟چونکہ صورت حال یہ ہے کہ ان لکڑیوں کے اصل مالک کا پتہ نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے مالک کو توقع ہوتی ہے کہ  مجھے میری لکڑیاں واپس مل سکتی ہیں ،تو نہ مالک کا پتہ ہے اور نہ مالک اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو کیا کوئی صورت ہے کہ جس میں خریدار کے لیے لکڑیاں پکڑنے والے سے یا بالواسطہ کسی دوسرے سے خریدکر استعمال کیا جا سکے۔

جواب

              پانی  میں جومملوکہ  سامان بہہ  کر آتا ہے شرعاً یہ لقطہ کے حکم میں ہوتا ہے ، اگر لقطہ قیمتی  چیزہو تو اس کی تشہیر کرنا ضروری  ہے، تشہیر کے بعد مالک نہ ملنے کی صورت میں اگراٹھانے والا فقیر ہو تو اسے خود استعمال  کرسکتا ہے،البتہ اگر وہ  مالدار ہو  تو اسےمالک کی طرف سے  غریبوں  میں صدقہ کرےگا۔

          صورت مسؤلہ کے مطابق اگرسیلاب کی لکڑیاں قیمتی  ہوں تو اٹھانے والے پراس کی تشہیر لازم ہوگی اورلکڑیاں محفوظ  رکھےگا  تاکہ مالک کے آجانے کے بعداسے حوالہ کرے،البتہ تشہیرکے بعداگر مالک نہ ملے تو اگر اٹھانے والا مالدار ہو توخود استعمال نہ کرے بلکہ مالک کی طرف سے   کسی فقیر کو صدقہ    کردے،اور اگر فقیر ہو تو اسے خود   استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔البتہ صدقہ کرنے  یا خود استعمال کرنے کے بعد اگر   مالک اسے تلاش کرتا ہواآ جائےاور اس کے مطابق  نشانیاں بھی بتائےتو اٹھانے والے پر لکڑیاں  یااس کی قیمت ادا کرنا  لازم ہوگا۔

            لہذا اگر کسی شخص  نے یہ  لکڑیاں  ایسے شخص سے خریدی  ہوں  جس نے ان  کو  اپنے استفاده کی نیت سے پکڑا ہو تو یہ مالِ مغصوبہ کے حکم میں ہے اور  علم کے  با وجود مالِ مغصوبہ خریدنا جائز نہیں اور بالفرض اگر خرید لیا ہو تو جب تک غاصب  مغصوبہ  چیز کا ضمان ادا نہ کرے تب تک بیع موقوف رہے گی ۔اوراگراٹھانے والے نے ان لکڑیوں کو حفاظت کی نیت  سے اٹھایاہو اور تشہیر کے باوجود   اصل مالک معلوم نہ ہوا ہو تو شرعاً لقطہ کا مال  واجب التصدق  ہے چاہے فقراء پر صدقہ کرے یا فقیر ہو  نے کی صورت میں خود استعمال  کرے لہذا اگر وہ اٹھانے والا  مالدار ہو تو اس کے لیے  فروخت كرنا جائز نہیں تھا  بلکہ کسی فقیر پر صدقہ کر نا لازم تھا تا ہم اگر یہ معلوم ہوکہ اس نے رقم صدقہ کر دی ہے تو خریدنے والے کے لیے اس کو استعمال کرنے کی گنجائش ہےاور اگر وہ اٹھانے والا فقیر تھاتو خوداس کا بیچ دینا بھی تشہیر کے بعد جائز تھا لہذا خریدنے والے کے لیے اس کے استعمال کی اجازت ہو گی ۔

 

إن وجد في الماء يجوز أخذه وإن كثيرا لأنه يفسد بالماء والحطب في الماء إن لم يكن له قيمة يأخذه وإن له قيمة فهو لقطة ۔(البحرالرائق،فصل التعریف بالقطة ،ج:5، ص:165)

 وللملتقط أن ينتفع باللقطة بعد التعريف لوفقيرا وإن غنيا تصدق بها ولو على أبويه أو ولده أو زوجته لو فقراء ۔۔۔وللمالك أخذها ولايجب دفع اللقطة إلى مدعيها إلا ببينة ويحل إن بين علامتها من غير جبر.(ملتقى الأبحر، كتاب اللقطة، ج:1،ص:529)

وأما حالة الحرمة: فهو أن يأخذها لنفسه لا لصاحبها لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «لا يأوي الضالة إلا ضال» والمراد أن يضمها إلى نفسه لأجل نفسه لا لأجل صاحبها بالرد عليه؛ لأن الضم إلى نفسه لأجل صاحبها ليس بحرام ولأنه أخذ مال الغير بغير إذنه لنفسه فيكون بمعنى الغصب۔(بدائع الصنائع،فصل في بيان احوال اللقطة،ج:6،ص:200)

وبعد إظهار التعريف إن جاء صاحبها دفعها إليه لحصول المقصود بالتعريف، وإن لم يجئ فهو بالخيار إن شاء أمسكها حتى يجيء صاحبها، وإن شاء تصدق بها۔۔۔۔۔ فإن تصدق بها ثم جاء صاحبها فهو بالخيار إن شاء أجاز الصدقة ويكون له ثوابها وإن شاء اختار الضمان، ۔۔۔۔۔۔وإن كان الملتقط محتاجا فله أن يصرفها إلى حاجة نفسه بعد التعريف.(المبسوط للسرخسي،كتاب اللقيط،ج:11،ص:7)

ومنها : قيمة اللقطة إذا تصدق بها أو انتفع بها بعد التعريف ولم يجز مالكها فالمعتبر قيمتها يوم التصدق لقولهم :إن سبب الضمان تصرفه في مال غيره بغير إذنه ولم أره صريحا۔(الأشباه والنظائر،القول في ثمن المثل،ج:1،ص:401)

ولا يتصدق باللقطة  على غني ،لأن المأمور هوالتصدق لقوله  عليه السلام :فإن لم يأت صاحبها  فليتصدق بها،والصدقة لا يكون على غني  فأشبه  الصدقةالمفروضة۔(الهداية،كتاب اللقطة ،ج:2،ص:273)


فتویٰ نمبر : 3136/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں