بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

رضاعی بھائی کی نسبی بھتیجی سے نکاح کرنا


سوال

محمد امین کے علاتی بھا ئی (مستقیم )نے (شہزاد گئی زوجہ محمد امین ) کا دودھ پیا ہے ،جس سے مستقیم محمد امین کا علاتی بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ رضاعی بیٹا بھی بن گیا ہے ۔محمد امین کا دوسرا علاتی بھائی (فیاض)ہے  ،اب محمد امین اپنے  نسبی بیٹے(سہیل) کی شادی علاتی بھائی  (فیاض )کی بیٹی (حنا) کے ساتھ کرنا چاہتا ہے ۔کیا یہ نکاح کرنا  جائز ہے ؟

جواب

               شریعت مطہرہ کی روشنی میں دودھ پینے والے بچے پر دودھ پلانے والی عورت اوراس کے اصول و فروع  سب حرام ہو جا تے ہیں ،تاہم یہ حرمت دودھ  پینے والے بچے کے علاوہ کسی اور پر ا ثر انداز نہیں ہوتی ۔

             صورت مسؤلہ کے مطابق اگر محمد امین کے علاتی بھا ئی (مستقیم )نے (شہزاد گئی ) کا دودھ پیا ہواور محمد امین اپنے  بیٹے (سہیل)کا نکاح دوسرے علاتی بھائی (فیاض )کی بیٹی (حنا )کے ساتھ کرنا چاہے تو ان کا  نکاح کرنا جائز ہے۔بشرطیکہ حرمت کی کوئی اوروجہ نہ ہو ۔

 

يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا۔۔۔۔۔ فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته۔(الفتاوى الهندية،كتاب الرضاع،ج:1،ص:343)

قوله تعالى: {وأحل لكم ما وراء ذلكم} . روي عن عبيدة السلماني والسدي: "أحل لكم ما دون الخمس أن تبتغوا بأموالكم على وجه النكاح". وقال عطاء: "أحل لكم ما وراء ذوات المحارم من أقاربكم". وقال قتادة: {ما وراء ذلكم} : "ما ملكت أيمانكم". وقيل: "ما وراء ذوات المحارم وما وراء الزيادة على الأربع أن تبتغوا بأموالكم نكاحا أو ملك يمين" قال أبو بكر: هو عام فيما عدا المحرمات في الآية وفي سنة النبي صلى الله عليه وسلم۔(أحكام القرآن للجصاص،ج:2،ص:175)


فتویٰ نمبر : 6496/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں